روزانہ ایک کھرب 41ارب روپے کما کر مارک زکربرگ اور جیف بیزوز سے زیادہ امیر بن جانے والا شخص WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز

نیویارک (سب نیوز)ٹیسلا، اسپیس ایکس، ایکس (ٹوئٹر)اور دیگر متعدد کمپنیوں کے مالک ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جو اس وقت 365 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے اس اعزاز کو سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ ایک اور فرد بہت تیزی سے ان کے تعاقب میں اوپر آرہا ہے۔
درحقیقت یہ شخص 2025 کے دوران سب سے زیادہ کمانے والا فرد بھی ہے جس کی دولت میں 7 ماہ کے دوران اب تک 109 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوچکا ہے۔زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر افراد کے لیے یہ نام کافی گمنام ہے اور وہ ہے اوریکل کمپنی کے شریک بانی لیری ایلیسن۔جن کی دولت میں حالیہ ہفتوں کے دوران اوسطا روزانہ 50 کروڑ ڈالرز(ایک کھرب 41 ارب 52 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد)کا اضافہ ہوا ہے۔
جی ہاں واقعی بلومبرگ بلین ائیر انڈیکس کے مطابق لیری ایلیسن مارک زکربرگ اور جیف بیزوز کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔وہ دنیا کے دوسرے فرد ہیں جن کی دولت ایلون مسک کے بعد 300 ارب ڈالرز سے اوپر گئی ہے۔ابھی وہ 301 ارب ڈالرز کے مالک ہیں اور ایلون مسک سے محض 64 ارب ڈالرز پیچھے ہیں۔گزشتہ ہفتے ان کی دولت میں ایک دن میں 28.

4 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا اور ایسا ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں وہ ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیں۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ وہ امریکی کمپنی اوریکل کارپوریشن کے شریک بانی ہیں۔80 سالہ لیری ایلیسن کے پاس کمپنی کے 41 فیصد حصص ہیں اور ان کی دولت میں تیزی سے اضافہ بھی اوریکل کے حصص کی قیمتیں بڑھنے سے ہوا ہے۔جون میں ان کی دولت میں محض 2 دن کے دوران 41 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے 1977 میں اوریکل کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اور وقت کے ساتھ یہ کمپنی عالمی کلاڈ کمپیوٹنگ پاور ہاس بن گئی۔ابھی وہ اوریکل میں چیئرمین اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لیری ایلیسن ایلون مسک کے اچھے دوست ہیں اور وہ دسمبر 2018 سے اگست 2022 کے دوران ٹیسلا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ رہے تھے جبکہ اس کمپنی میں سرمایہ کاری بھی کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ حکومت کا یوم آزادی پر گاڑی، دکان یا عمارت کی بہترین سجاوٹ پر انعام دینے کا اعلان اچھے کھانوں کا شوقین ہوں، پاکستانی کھانے کی وجہ سے امریکی پرواز سے اتار دیا گیا، خبیب نورماگومیدوف فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان، اسرائیلی وزیر نے میکرون کی اہلیہ سے تھپڑ کھانے کی ویڈیو شیئر کردی امریکی کمپنی کا سی ای او کنسرٹ کے دوران اپنی ملازمہ کیساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ویڈیو وائرل جاپانی بابا وانگا کی پیشگوئی، کیا آج دنیا میں بہت بڑا زلزلہ اور سونامی آنے والے ہیں؟ پاکستانی ڈاکٹر کی چین میں کام اور دوستی کی 6 سالہ کہانی برطانوی یوٹیوبر اپنے کھوئے ہوئے ایئرپوڈز واپس لینے پاکستان پہنچ گیا، پولیس کا بھرپور تعاون TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا