کراچی، غیر ملکی کرنسی، جعلی ادویات اور اسمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
چھاپہ مار کارروائی میں ملزم سے لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی 1 لاکھ چائنیز یان، 35 ہزار 540 تھائی بھات اور 77 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔ علاوہ ازیں ملزم سے یورو، سری لنکن روپے، ملائیشین رنگٹ، سنگاپور ڈالر اور ہانگ کانگ ڈالر بھی برآمد ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت محمد سلیمان، محمد حسین اور شیخ محمد رفیق کے نام سے ہوئی۔ ملزم محمد سلیمان تھائی لینڈ سے پاکستان پہنچا، جس کے موبائل فون سے غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کے تبادلے سے متعلق آڈیو اور ٹیکسٹ پیغامات برآمد ہوئے۔ چھاپہ مار کارروائی میں ملزم سے لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی 1 لاکھ چائنیز یان، 35 ہزار 540 تھائی بھات اور 77 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔ علاوہ ازیں ملزم سے یورو، سری لنکن روپے، ملائیشین رنگٹ، سنگاپور ڈالر اور ہانگ کانگ ڈالر بھی برآمد ہوئے۔
دوسری کارروائی میں محمد حسین نامی ملزم سے نان کسٹم اشیاء برآمد ہوئی۔ ملزم دبئی سے پاکستان پہنچا، جس سے 5 عدد نان کسٹم پیڈ لیپ ٹاپ، سام سنگ موبائل فون اور شراب کی 3 بوتلیں برآمد ہوئیں، جبکہ ایک اور کارروائی میں شیخ محمد رفیق نامی ملزم گرفتار کیا گیا۔ ملزم بیرون ملک سے درآمد شدہ غیر رجسٹرڈ ادویات اسٹیرائیڈز کی بھاری مقدار میں اسمگلنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکی کرنسی کارروائی میں برآمد ہوئے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔