سٹی 42 : الخدمت ہیڈ آفس میں فلسطینی سٹوڈنٹس کے اعزاز میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ، جس سے صدرالخدمت ڈاکٹرحفیظ الرحمن،سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری، ڈین الازہر یونیورسٹی غزہ ڈاکٹر محمد ریاض زغبور سمیت دیگرذمہ داران  نے خطاب کیا۔ 

تقریب میں مرکزی صدر الخدمت پروفیسرڈاکٹرحفیظ الرحمن،سیکرٹری جنرل سیدوقاص جعفری، ڈین الازہریونیورسٹی غزہ ڈاکٹرمحمدریاض زغبور، رہنما ڈاکٹرز آف رحمان یوکے ڈاکٹریوسف شیخ، چیئرمین الخدمت ہیلتھ ڈاکٹر زاہد لطیف،نیشنل ڈائریکٹر الخدمت ایجوکیشن ڈاکٹر احمد جبران، صدرالخدمت یورپ ڈاکٹر حامد فاروق، پرنسپل یونیورسٹی آف لاہور ڈاکٹر مہوش، نیشنل ڈائریکٹر آئی ٹی الخدمت ڈاکٹر سعد ظفر سمیت فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ

 پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن  نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اہل پاکستان کیلئے فخر کا باعث ہے کہ ہم غزہ کے فلسطینی سٹوڈنٹس کی میزبانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن اپنے پارٹنرز فلاحی اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ترکی،مصر اور پاکستان میں غزہ کے 409 فلسطینی سٹوڈنٹس کو اسکالرشپ فراہم کررہی ہےجس میں ان کی تعلیم،رہائش،فوڈ اور میڈیکل سہولیات کے علاوہ ماہانہ کیش ایوارڈ بھی شامل ہے۔

فالس فلیگ کا بھانڈا پھوڑنے پر بھارت کی بوکھلاہٹ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ پر سائبر حملے

انہوں نے کہاکہ فلسطینی سٹوڈنٹس کے 4بیج گریجویشن کی تعلیم مکمل کرچکے ہیں جن کیلئے استبول ترکی، پی ایم ڈی سی اسلام آباد، فوجی فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد اور یونیورسٹی آف لاہور میں تقاریب منعقد کی گئیں۔ ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہاکہ الخدمت نے 3800ٹن امدادی سامان غزہ کیلئے روانہ کیا۔

 امدادی سرگرمیاں پاکستانی قوم کے ذریعے الخدمت، وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی مشترکہ کاوش ہیں۔پاکستان سے 20 خصوصی طیاروں اور 4 بحری جہازوں کے ذریعے امدادی سامان غزہ کیلئے روانہ کیا گیا۔ قاہرہ مصر میں الخدمت فاؤنڈیشن کا کیمپ آفس اورفن بچوں اور متاثرہ خاندانوں کی کفالت سمیت مسلسل غزہ متاثرین کی خدمت کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

الیکٹرک بسوں کی درآمد کے ٹینڈر منسوخی کی وجہ سامنے آگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل