شادی کا جھانسا؛ یونیورسٹی کی طالبہ کیساتھ 2 سال سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
لاہور:
یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ شادی کا جھانسا دے کر 2 سال سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق حکام نے کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو شادی کا جھانسا دے کر زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
قلعہ گجر سنگھ پولیس نے بتایا کہ ملزم بابر کی سوشل میڈیا پر لڑکی سے بات چیت ہوئی، جس کے بعد ملزم بابر لڑکی کو 2 سال تک شادی کا جھانسا دے کر زیادتی کرتا رہا۔
ملزم لڑکی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا اور اس نے تشدد بھی کیا۔ ملزم بابر کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کے لیے جینڈر سیل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین و بچوں سے زیادتی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان شادی کا جھانسا زیادتی کرنے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔