فلسطین فاؤنڈیشن کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں مولانا عقیل انجم، علامہ صادق جعفری، مولانا عبدالعظیم، حمزہ اور مختار رضا سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں یومِ نکبہ کے موقع پر تقاریب، ریلیوں اور شعور بیداری کی مہمات کے انعقاد پر غور کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل سندھ کی یومِ نکبہ کمیٹی کا اجلاس فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کی۔ اجلاس میں مولانا عقیل انجم قادری، علامہ شیخ محمد صادق جعفری، مولانا عبدالعظیم، حمزہ اور مختار رضا سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں یومِ نکبہ کے موقع پر تقاریب، ریلیوں اور شعور بیداری کی مہمات کے انعقاد پر غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے تمام مکاتب فکر اور طبقات کو یکجا ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔ اجلاس کے اختتام پر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور مظلوموں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود