ڈائریکٹر آصف رضوی، ڈپٹی ریاض جاکھرو ،بلڈنگ انسپکٹر عابد شاہ تعمیرات میں ملوث
گلشن اقبال 13D 2پلاٹ نمبر A 30اور B 96پر دکانیں تعمیر ،انفراسٹرکچر تباہ
ڈی جی اسحاق کھوڑو سے موقف لینے کے لیے رابطے کی کوشش ، وہ دستیاب نہ ہو سکے

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو نے بدعنوان افسران کو شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے۔ اخبارات اور شہریوں کی جانب سے جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کی جانے والی شکایات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے جاری تعمیرات پر مکمل چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔ جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوان ڈائریکٹر آصف رضوی نے ڈپٹی ریاض جاکھرو بلڈنگ انسپکٹر عابد شاہ کو غیر قانونی دھندوں سے لین دین اور بنا نقشے اور منظوری اور غیر قانونی تعمیرات کو بلا روک ٹوک تکمیل تک پہنچانے کا ذمہ سونپ رکھا ہے جنہوں نے ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچا کر بغیر نقشے اور منظوری اسکیم 24 میں تعمیرات شروع کروا رکھی ہیں۔ شہر کے دیگر علاقوں کی طرح غیر قانونی تعمیرات سے گلشن اقبال میں بھی بنیادی مسائل پیدا ہونا شروع ہو چکے ہیں۔جس پر علاقہ مکین سراپا احتجاج ہیں ۔جرأت سروے کے مطابق اس وقت بھی گلشن اقبال کے علاقے 13 D 2میں پلاٹ نمبر A30اور B 96 رہائشی پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے دکانیں تعمیر کرنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔شہر میں جاری ان جائز تعمیرات پر موقف لینے کے لئے ڈی جی اسحاق کھوڑو سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: گلشن اقبال

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل