مولانا فضل الرحمان کی ایرانی سفارتخانے آمد، سفیر ڈاکٹر رضا مقدم کی دورہ ایران کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
جے یو آئی کے میڈیا سیل کے مطابق ایرانی سفیر نے کہا کہ مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا متفقہ مسئلہ ہے، ایرانی سفیر نے مولانا فضل الرحمان کو مسئلہ فلسطین پر جاندار موقف اپنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا مقدم سے ایرانی سفارت خانے میں ملاقات کی۔ جے یو آئی کے سوشل میڈیا کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ایرانی شہر بندر عباس میں ہونیوالی آتشزدگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایرانی سفیر کے ساتھ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی اور فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے متعلق گفتگو کی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مودی خطے میں جنگی سیاست کے ذریعے اپنی بقاء چاہتا ہے، بھارت کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایرانی سفیر سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے خطے میں امن و امان کے قیام پر زور دیا۔ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں ایرانی سفیر نے مولانا فضل الرحمان کو مسئلہ فلسطین پر جاندار موقف اپنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ جمیعت علمائے اسلام کے میڈیا سیل کے مطابق ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا متفقہ مسئلہ ہے۔ اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے آمد اور ایرانی سفیر سے ملاقات کے دوران ایرانی سفیر کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو دورہ ایران کی دعوت دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سفیر نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔