اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ دیں گے کہ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات کریں اور پوچھیں کہ کیا ہم دونوں ایک دوسرے کی مکمل تباہی چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مودی سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اگر دونوں ممالک کو ایک ہی جگہ رہنا ہے، تو کیا وہ کشیدہ تعلقات چاہتے ہیں یا دونوں ممالک کو مہذب ہمسایہ اقوام کی طرح آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں؟

معید یوسف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو مودی کو یہ بتانا چاہیے کہ یہاں کے عوام کے جذبات پر قابو پانا بھی ان کے لیے مشکل ہے، کیونکہ جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے اور بھارت جو کچھ کر رہا ہے، وہ عوام کے سامنے ہے۔ اگر بھارت ایٹمی ماحول میں جنگی جنون میں رہنا چاہتا ہے، تو یہ اس کی مرضی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے جیسے پہلے قدم اٹھائے تھے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتا ہے، کیونکہ مودی نے کشیدہ ماحول پیدا کر رکھا ہے، اور پاکستان کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔​

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار