برادر ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں،وزیراعظم کی سفراء سے بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں، بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہیں
پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا اور خطے میں دہشت گردی کے ہر واقعے کی مذمت کرتا ہے ،وزیراعظم کی سعودی، اماراتی اور کویتی سفرا سے ملاقاتیں، خطے میں امن کیلئے مشترکہ کام کرنے کی خواہش کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، متحدہ عرب امارات کے سفیر عبید ابراہیم سالم الزابی اور کویت کے سفیر نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں، ان ملکوں کے سفرا نے خطے میں امن وسلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور وزیراعظم نے سعودی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بڑی قربانیاں دی ہیں، وزیراعظم نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا۔وزیراعظم نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا،انہوں نے کہاکہ پاکستان کی کامیابیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ سے ہٹانے کی بھارتی کوششیں ناقابل فہم ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب سمیت برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالیں، انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا ۔سعودی سفیر نے اس اہم معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہاکہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے ۔دریں اثنا، وزیر اعظم شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حمد عبید ابراہیم سالم الزابی نے بھی وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے متحدہ عرب امارات کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا، ملاقات میں پہلگام واقعے کے بعد خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا اور خطے میں دہشت گردی کے ہر واقعے کی مذمت کرتا ہے ، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 90 ہزار جانوں اور 152 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔وزیر اعظم نے بھارتی الزمات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات کا مقصد پاکستان کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے ہٹانا ہے ۔متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا، سفیر نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔دریں اثنا، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کویتی سفیر کی ملاقات ہوئی ہے ، جس میں واقعہ پہلگام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کویت کے ولی عہد کے جلد پاکستان کے دورے کے منتظر ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے ، پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے ہوئے بہت قربانیاں دیں، بھارت نے واقعہ پہلگام کو بغیر ثبوت کے پاکستان سے جوڑا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی ہے ، پاکستان ایسی کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔کویتی سفیر نے پاکستان کے موقف کو آگاہ کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔