بے چارا مودی! پانی روکنے کی گیدڑ بھبکیوں کے بعد چناب میں بلا اطلاع پانی چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
بھارت کے کینہ پرور ہندوتوا پرست جونی وزیراعظم نریندر مودی "سندھ طاس معاہدہ معطل" کرنے کا اعلان کرنے کے بعد پاکستان کا اور تو کچھ کر نہیں سکے، ایک بار جہلم دریا مین اچانک پانی چھوڑ دیا اور اب چناب میں اچانک پانی چھوڑ دیا۔
مودی کی حالت مشہور لطیفے کے کردار اس سردار جی جیسی ہو رہی ہے جو قرض خواہ کو قرض کی رقم واپس دینے سے پہلے کچھ کھپانے کی دھن میں خود پار کھا رہا تھا۔ پاکستان میں بعض لوگ بھارت کے پہلے جہلم اور آج چناب میں اچانک بلا اطلاع پانی چھوڑ دینے کو "آبی جارحیت قرار دے کر اس کی مذمت کر رہے ہیں لیکن بہت سے لوگ اس اطلاع سے بہت خوش ہیں کہ چناب میں اضافی پانی آ گیا ہے۔
پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ
تازہ ترین سورتحال یہ ہے کہ چناب دریا میں ہیڈ مرالہ کے مقام کر لگے نشان نچلے درجہ کے سیلاب کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
گزشتہ کچھ گھنٹوں سے چناب میں مسلسل پانی کی آمد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ھے -
ہیڈمرالہ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ دریا مین مرالہ کے مقام پر پانی کا اخراج 88 ہزار کیوسک ہو گیا ہے۔
جمعرات کو چناب میں 27 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا تھا، آج اس کی مقدار دو گنا بڑھ چکی ہے۔
فالس فلیگ کا بھانڈا پھوڑنے پر بھارت کی بوکھلاہٹ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ پر سائبر حملے
زمینی صورتحال
بھارت کا بلا اطلاع چھوڑا ہوا پانی پاکستان کے لئے سر دست کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرے گا۔ بھارت اوپر بگلہیار ڈیم پر جو پانی ذخیرہ کرتا ہے وہ سراسر غیر قانونی ہے۔ اب وہ اپنی ہٹ نبھانے کے لئے اور یہ جتلانے کے لئے کہ وہ دراصل سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد نہیں کر رہا، بھارت پاکستان کا روکا ہوا پانی پاکستان کوواپس کر رہا ہے حالانکہ خود ساختہ برتری کے ذہنی مرض میں مبتلا پرائم منسٹر مودی کا دعویٰ پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کا ہے۔
الیکٹرک بسوں کی درآمد کے ٹینڈر منسوخی کی وجہ سامنے آگئی
رشمیکا مندنا کے مبینہ بوائے فرینڈ وجے کیخلاف مقدمہ درج
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔