سندھ طاس معاہدے کی معطلی؛ پاکستان نے اہم فیصلہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر پاکستان نے باقاعدہ سفارتی ذرائع سے نوٹس دینے کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر قانونی و آئینی مشاورت کے بعد وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون نے ابتدائی ہوم ورک کر لیا۔
سفارتی ذرائع سے نوٹس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف عالمی فورمز پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس میں بھارت کی آبی جارحیت کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد پاکستان کے مؤقف کو قانونی اور اخلاقی جواز دینا ہے۔
پاکستان سندھ طاس معاہدے پر قانونی سبقت رکھتا ہے، امید ہے بھارت کو جلد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔
ذرائع کا کہنا کہ تمام اقدامات حکومت و کابینہ کی منظوری کے بعد کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معطلی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔