وزیر اطلاعات کو رات 2 بجے پریس کانفرنس کیوں کرنا پڑی؟ عطااللہ تارڑ نے خود بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں رات 2 بجے ہنگامی پریس کانفرنس کرنے کی وجہ بیان کردی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس کنفرم انٹیلی جنس اطلاعات تھیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے، فیصلہ کن جواب دیا جائےگا، وزیر اطلاعات
انہوں نے کہاکہ ہماری افواج الرٹ ہیں اور دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر بھارت نے ہمارے خلاف کچھ کیا تو دس گنا حساب برابر کریں گے۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ بھارت کو عالمی سطح پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، پہلگام واقعہ کے بعد امریکا، چین اور ترکیہ نے بھی پاکستان کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان سمیت کئی ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے، اور دنیا اس حقیقت سے آگاہ بھی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ نریندر مودی اور امیت شاہ کے خلاف بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں نامعلوم افراد کی جانب سے سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ’بھارتی فوجی مہم جوئی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا‘ آرمی چیف اگلے مورچوں پر پہنچ گئے
بھارت نے یکطرہ اقدام کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا ہے، جبکہ پاکستان نے ہندوستان پر واضح کیا ہے کہ اگر ہمارا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے جنگ تصور کیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ عطااللہ تارڑ وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ عطااللہ تارڑ وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز عطااللہ تارڑ وزیر اطلاعات نے کہاکہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔