پہلگام واقعہ؛ پاکستان نے کثیر ملکی تحقیقاتی کمیشن یا اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پاکستان نے پہلگام واقعےکی تحقیقات کے لیے کثیر ملکی تحقیقاتی کمیشن یا اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کی پیشکش کردی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نیوز چینل سے انترویو میں کہا کہ پہلگام واقعہ کی یا تو دو تین ملک مل کر تحقیقات کرلیں یا پھر اقوام متحدہ کا کمیشن بنادیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا، بھارت تحقیقات کے مطالبہ کو اس لیے قبول نہیں کررہا ہےکہ اسے خوف ہےکہ کچھ اور نہ نکل آئے، بات چیت کے امکان کو کسی بھی حالات میں خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، کشیدگی جتنی بھی ہو مذاکرات کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
وزیر دفاع نے کہا، پاک بھارت تصادم کا امکان کم ہوا ہے مگر بھارت میں اس وقت بہت بوکھلاہٹ ہے، ساری دنیا کہہ رہی ہےکہ معاملہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے پہلی مرتبہ یہ تجویز پبلک مین بیان کی کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ ، روس، چین، ترکی، ایران یا کوئی بھی ملک اس تحقیقات کی ابتدا کرے۔
انہوں نے پہلگام واقعہ کے مشکوک سرکم سٹینسِز کا ایک بار پھر حوالہ دیتے ہوئے کہا، پہلگام میں ایک طرف واقعہ ہو رہا ہے اور دس منٹ میں ایف آئی آر درج ہوگئی۔ پہلگام واقعے کی ساکھ پر بھارت کے اندر سے ہی کریک پڑگئے ہیں۔
ایف سی انڈرپاس کے قریب تیز رفتار رکشہ اُلٹنے سے5افراد زخمی
خواجہ آصف نے کہا، اس وقت حکومت پاکستان کی جانب سے مشیر قومی سلامتی کے تقرر کا مذاکرات کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔