پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
لاہور:
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سرحد پار کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش اس کی ’’تاریخی بھول‘‘ ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔مریم اورنگزیب نے خبردار کیا کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ہم پہلگام واقعے کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے لیے انصاف کی بات کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف بھارتی حکومت اپنے ہی شہریوں کے خون پر سیاست کر رہی ہے، جو قابل مذمت ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ دنیا پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بھارت نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ دوست ممالک سمیت عالمی برادری جان چکی ہے کہ بھارت ہی امن کا دشمن اور دہشت گردوں کا سرپرست ہے۔
مریم اورنگزیب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم امن کے داعی ضرور ہیں، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا انجام بھارت خود لکھے گا کیوں کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنے قومی وقار، خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کا دفاع کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔