وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بیٹے، بیٹیاں اور پوری قوم پاک فوج کیساتھ کھڑی ہے۔ نوجوان آج پاک فوج کو ساتھ کھڑے ہونے کا بھر پور میسج دے رہے ہیں۔ بچوں کی پاکستان سے محبت دیکھ مجھے امید ہوگئی کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے، بچوں مجھے صرف آپ سے ایک وعدہ چاہیے کہ آپ کا جب بھی کوئی قدم اٹھے گا اس ملک کی بھلائی اور ترقی کیلئے اُٹھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ بارڈر پر تناؤ ہے لیکن پاکستانی ڈرنے والے نہیں، ہونہار سکالر شپ سکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ بیٹے، بیٹیاں اور پوری قوم پاک فوج کیساتھ کھڑی ہے۔ نوجوان آج پاک فوج کو ساتھ کھڑے ہونے کا بھر پور میسج دے رہے ہیں۔ بچوں کی پاکستان سے محبت دیکھ مجھے امید ہوگئی کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے، بچوں مجھے صرف آپ سے ایک وعدہ چاہیے کہ آپ کا جب بھی کوئی قدم اٹھے گا اس ملک کی بھلائی اور ترقی کیلئے اُٹھے گا۔ نوجوان عہد کرلیں کہ ان کا ہر قدم پاکستان کی بھلائی کیلئے ہوگا تو پاکستان کے مستقبل کی اس سے بڑی کوئی ضمانت نہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجابی بعد میں ہوں پہلے پاکستانی ہوں، دوسرے صوبوں کے بچے لیپ ٹاپ کیلئے میسج کرتے ہیں۔ باقی صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی اپنے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور سکالر شپ دیں۔ بچوں کو سکالر شپ، لیپ ٹاپ، ای بائیکس سمیت سب کچھ دیں کیونکہ یہی ہمارا مستقبل ہے۔ ہونہار طلبہ آج کے سپر سٹار ہیں، طلبہ سے محبت اور احترام کا رشتہ تاحیات قائم رہے گا۔ لیپ ٹاپ دیکھ کر بچوں کو مریم نواز شریف کی چاہت نظر آئے گی۔ ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم میں تھوڑا ٹائم لگا جس کی وجہ سے میں ہرروز بچوں کو مس کرتی رہی۔ ہر میٹنگ کیلئے وقت مختص کیا جاتا ہے مگر طلبہ کیلئے وقت کی کوئی لمٹ نہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ آج کل لوگ سیاست کو بُرا سمجھتے ہیں لیکن سیاست عبادت ہے۔ ساڑھے 12 لاکھ مزدوروں کو ماہانہ 3 ہزار سبسڈی کیلئے راشن کارڈ دیئے ہیں۔ اپنے بچوں کے درمیان بیٹھ کر میرا دل سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ لاہور ڈویژن کے14 ہزار بچوں کو میرٹ پر بلاامتیاز لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں۔ لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ دیتے ہوئے کسی نے نہیں پوچھا کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں 60 فیصد طالبات ہونے پر خوش ہوں۔ سب بچوں اور والدین سے درخواست کرتی ہوں کہ میرا شکریہ ادا نہیں کرنا، بلکہ یہ آپ کا حق ہے۔  بچوں کو سکالر شپ یا لیپ ٹاپ نہیں بلکہ شاباش دینے آئی ہوں۔ طلبہ کی کامیابی پر جتنی خوشی ان کے والدین کو ہوتی ہے ان سے زیادہ میں خوش ہوں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ وردی والے قوم کی حفاظت کرتے ہیں، وردی کو ڈنڈے پر ٹانگنے والے آج جیلوں میں ہیں۔ ملکی مفاد کیخلاف کام کرنیوالوں کا مستقبل تاریک ہے۔ دہشتگردی کرنیوالوں کے اپنے بچوں ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ ہونہار سکالر شپ بچوں کو پاک فوج لیپ ٹاپ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف