Juraat:
2026-07-24@06:30:05 GMT

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 25 اپریل یعنی 4 دن پہلے جہلم بس اسٹینڈ سے بھارت کے تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجید کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس سے ڈھائی کلو وزنی بم، 2 موبائل فون اور 70 ہزار روپے کیش برآمد ہوا جب کہ اس کے گھر سے ایک بھارتی ساختہ ڈرون اور 10 لاکھ روپے کیش برآمد ہوا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق اس دہشت گردکا ہینڈلر کوڈ نیم ‘سکندر’ ہے جو بھارتی فوج کا جونیئر کمیشن آفسر صوبیدار سکھویندر ہے جب کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد کی اپنے ہینڈلر سے گفتگو بھی سامنے آئی ہے۔ گرفتار دہشت گرد کے موبائل فون سے بھارتی فوجی سے ہونے والی گفتگو آپ کو سناتے ہیں جس میں صوبیدار سکھویندر اسے دہشت گردی کے لیے پہلی آئی ای ڈی ڈیوائس جب دیتا ہے تو اسے کیا ہدایت دیتا ہے، میں آپ کو سنواتا ہوں۔ واٹس ایپ پر ہونے والی بات چیت کے دوران دہشت گرد کو بھارت سے لوکیشن مل رہی ہے اور اسے بتایا جارہا ہے کہ کسی اور کے ذریعے آئی ای ڈی آپ تک پہنچ رہی ہے، پھر وہ پوچھ رہا ہے کہ ہوگیا پارسل، آپ وقت سے نکل جانا اور جلدی پہنچنا جس پر دہشت گرد اسے اوکے کا جواب دیتا ہے کہ میں تھوڑی دیر میں نکل رہا ہے اور اسے لوکیشن بھی بھیجتا ہوں۔ دہشت گرد کی اپنے ہینڈلر سے ہونے والی گفتگو کے دوران مزید 4 کرداروں کی نشاندہی کی گئی، جو اس سیل کو چلارہے ہیں، جن میں میجر سندیپ ورما، جس کی شناخت (سمیر) کے نام سے بھی ہے وہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے، صوبیدار سکھویندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے۔
بھارتی حاضر سروس افسر نے کہا کہ ہم بلوچستان سے لے کر لاہور تک دہشت گردی کرتے ہیں، وہ بتا رہا ہے کہ کس طرح دہشت گردوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے (وہ کہتا ہے کہ میں مختلف اکاؤنٹس میں تھوڑے تھوڑے پیسے بھجواؤں گا، میں کسی کو پیسے بھیجوں گا وہ آگے کسی اور کو بھیجے گا اور پھر خود آپ تک پہنچائیگا)۔ بھارت کے حاضر سروس افسر نے دہشت گرد سے کہا کہ میں یہاں ایک دو دن کے لیے نہیں آیا، میں سالوں سے دہشت گردی کررہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا۔یہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال ہے، اور یہ صرف ایک سیل ہے جو آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جو 25 اپریل کو پکڑا گیا تھا جس نے 4 دہشت گردی کے واقعات کیے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد آپ کو بتانا ہے کہ کیسے بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔پہلگام واقعے کو 7 دن گزرگئے، لیکن اب تک بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، صرف زبانی جمع خرچ چل رہا ہے لیکن ہم آپ کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے جس میں بھارت کا حاضر سروس افسر بھی شامل ہے۔ آج آپ کو ثبوت کے ساتھ بتائیں گے کہ بھارت کس طرح پاکستان کے اندر دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا ہے اور دہشت گردوں کو ملٹری سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئی ای ڈیز سمیت دیگر مواد فراہم کر رہا ہے۔’دہشتگردی کی پیچھے بھارت کا کنٹرولڈ میڈیا ہے’۔دراصل بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے پیچھے ان کا ریاست کا کنٹرول کردہ میڈیا اور سوشل میڈیا ہے جس کی جھلک ابھی بھی سب دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائی کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ اچھالو تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا افسر نہیں بلکہ بھارتی آرمی کا افسر ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارراوئیوں میں ملوث ہے، آپ اس آرمی کا پروفیشنلزم دیکھیں، بھارتی حکومت اپنی فوج سے یہ کام کروا رہی ہے جس میں حاضر سروس فوجیوں سے کام لیا جا رہا ہے۔
22 نومبر 2024 کو صوبیدار سکھوندر ایک اور لوکیشن شیئر کرتا ہے اور اس بار یہ ہیڈمرالہ کے قریب کی ہے، مگر جس ڈرون کے ذریعے انہوں نے وہاں ا?ئی ای ڈی گرائی ہے وہ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے کریش کرجاتا ہے، اور یہی وہ ڈرون ہے جو پھر بعد میں اس کے گھر سے ملتا ہے، یعنی وہ اس ڈرون کو ری کور کرکے لے آتا ہے اور وہ وہاں سے آئی ای ڈی بھی اٹھالیتا ہے۔کالعدم بی ایل کا دہشت گرد فرید بلوچ گرفتار کر لیا گیا، دوران تفتیش فرید بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے۔ دہشت گرد نے اعترافی بیان مں بتایا کہ میرا کام را ایجنٹ سے ہدایت لینا تھا، ہدایات بی ایل اے کی مقامی قیادت تک پہنچاتا تھا، را ایجنٹ نے دہشت گردی کے مختلف ٹاسک دیے۔سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد فرید بلوچ نے دوران تفتیش اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جن سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔ فرید بلوچ نے اعترافی بیان میں بتایا کہ نوشکی میں دہشت گرد حملہ کی منصوبہ بندی دہلی میں ہوئی۔ فرید بلوچ نے نوشکی میں فورسز کے قافلے پر حملہ کیا۔ حملے میں 5 جوان شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فرید بلوچ نے اعتراف کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی دہلی میں ہوئی، بھارت میں موجود ہینڈلرز نے مزید ٹاسک بھی دیے۔ گرفتار دہشت گرد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ را کے اہلکار نے افغانستان میں ملاقات کر کے منصوبہ بتایا، را، آر ایس ایس نے کالعدم بی ایل اے کی مدد سے منصوبہ بندی کی۔
بھارت ان دہشت گردوں کو نہ صرف ہتھیار بلکہ پیسا بھی دیتا ہے۔ دہشت گردی کی جو شکل ہمیں بلوچستان میں را اسپانسرڈ نظر آتی ہے یہ پہلی بار دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی ایل اے کو کافی کمزور کر دیا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو اب سمجھ آ رہی ہے کہ ہندوستان کا پاکستان کے خلاف جو جھوٹا بیانہ ہے دہشت گردی کا اس میں خود بھارت ملوث ہے، بلوچستان کے حوالے سے تو شکایات پاکستان نے بارہا رجسٹرڈ کروائی تھی۔ اب بھارت کی دہشت گردی کی یہ پالیسی عالمی سطح پر پاکستان کے علاوہ کینیڈا، امریکا، قطر میں نظر آئی اور دنیا نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ یہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کامیابی ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کا جو پراکسی گروپ ہے اس کا اہم سرغنہ اور اس کا نیٹ ورک آج پکڑا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی فرید بلوچ نے دہشت گردی کے دہشت گردی کی ریاستی دہشت میں بھارت بی ایل اے آئی ای ڈی بھارت کی دیتا ہے اور اس رہی ہے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار