Juraat:
2026-06-03@02:26:31 GMT

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 25 اپریل یعنی 4 دن پہلے جہلم بس اسٹینڈ سے بھارت کے تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجید کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس سے ڈھائی کلو وزنی بم، 2 موبائل فون اور 70 ہزار روپے کیش برآمد ہوا جب کہ اس کے گھر سے ایک بھارتی ساختہ ڈرون اور 10 لاکھ روپے کیش برآمد ہوا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق اس دہشت گردکا ہینڈلر کوڈ نیم ‘سکندر’ ہے جو بھارتی فوج کا جونیئر کمیشن آفسر صوبیدار سکھویندر ہے جب کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد کی اپنے ہینڈلر سے گفتگو بھی سامنے آئی ہے۔ گرفتار دہشت گرد کے موبائل فون سے بھارتی فوجی سے ہونے والی گفتگو آپ کو سناتے ہیں جس میں صوبیدار سکھویندر اسے دہشت گردی کے لیے پہلی آئی ای ڈی ڈیوائس جب دیتا ہے تو اسے کیا ہدایت دیتا ہے، میں آپ کو سنواتا ہوں۔ واٹس ایپ پر ہونے والی بات چیت کے دوران دہشت گرد کو بھارت سے لوکیشن مل رہی ہے اور اسے بتایا جارہا ہے کہ کسی اور کے ذریعے آئی ای ڈی آپ تک پہنچ رہی ہے، پھر وہ پوچھ رہا ہے کہ ہوگیا پارسل، آپ وقت سے نکل جانا اور جلدی پہنچنا جس پر دہشت گرد اسے اوکے کا جواب دیتا ہے کہ میں تھوڑی دیر میں نکل رہا ہے اور اسے لوکیشن بھی بھیجتا ہوں۔ دہشت گرد کی اپنے ہینڈلر سے ہونے والی گفتگو کے دوران مزید 4 کرداروں کی نشاندہی کی گئی، جو اس سیل کو چلارہے ہیں، جن میں میجر سندیپ ورما، جس کی شناخت (سمیر) کے نام سے بھی ہے وہ غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے، صوبیدار سکھویندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے۔
بھارتی حاضر سروس افسر نے کہا کہ ہم بلوچستان سے لے کر لاہور تک دہشت گردی کرتے ہیں، وہ بتا رہا ہے کہ کس طرح دہشت گردوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے (وہ کہتا ہے کہ میں مختلف اکاؤنٹس میں تھوڑے تھوڑے پیسے بھجواؤں گا، میں کسی کو پیسے بھیجوں گا وہ آگے کسی اور کو بھیجے گا اور پھر خود آپ تک پہنچائیگا)۔ بھارت کے حاضر سروس افسر نے دہشت گرد سے کہا کہ میں یہاں ایک دو دن کے لیے نہیں آیا، میں سالوں سے دہشت گردی کررہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا۔یہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال ہے، اور یہ صرف ایک سیل ہے جو آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جو 25 اپریل کو پکڑا گیا تھا جس نے 4 دہشت گردی کے واقعات کیے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد آپ کو بتانا ہے کہ کیسے بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔پہلگام واقعے کو 7 دن گزرگئے، لیکن اب تک بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، صرف زبانی جمع خرچ چل رہا ہے لیکن ہم آپ کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے جس میں بھارت کا حاضر سروس افسر بھی شامل ہے۔ آج آپ کو ثبوت کے ساتھ بتائیں گے کہ بھارت کس طرح پاکستان کے اندر دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا ہے اور دہشت گردوں کو ملٹری سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے آئی ای ڈیز سمیت دیگر مواد فراہم کر رہا ہے۔’دہشتگردی کی پیچھے بھارت کا کنٹرولڈ میڈیا ہے’۔دراصل بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے پیچھے ان کا ریاست کا کنٹرول کردہ میڈیا اور سوشل میڈیا ہے جس کی جھلک ابھی بھی سب دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائی کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ اچھالو تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا افسر نہیں بلکہ بھارتی آرمی کا افسر ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارراوئیوں میں ملوث ہے، آپ اس آرمی کا پروفیشنلزم دیکھیں، بھارتی حکومت اپنی فوج سے یہ کام کروا رہی ہے جس میں حاضر سروس فوجیوں سے کام لیا جا رہا ہے۔
22 نومبر 2024 کو صوبیدار سکھوندر ایک اور لوکیشن شیئر کرتا ہے اور اس بار یہ ہیڈمرالہ کے قریب کی ہے، مگر جس ڈرون کے ذریعے انہوں نے وہاں ا?ئی ای ڈی گرائی ہے وہ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے کریش کرجاتا ہے، اور یہی وہ ڈرون ہے جو پھر بعد میں اس کے گھر سے ملتا ہے، یعنی وہ اس ڈرون کو ری کور کرکے لے آتا ہے اور وہ وہاں سے آئی ای ڈی بھی اٹھالیتا ہے۔کالعدم بی ایل کا دہشت گرد فرید بلوچ گرفتار کر لیا گیا، دوران تفتیش فرید بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے۔ دہشت گرد نے اعترافی بیان مں بتایا کہ میرا کام را ایجنٹ سے ہدایت لینا تھا، ہدایات بی ایل اے کی مقامی قیادت تک پہنچاتا تھا، را ایجنٹ نے دہشت گردی کے مختلف ٹاسک دیے۔سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد فرید بلوچ نے دوران تفتیش اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جن سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔ فرید بلوچ نے اعترافی بیان میں بتایا کہ نوشکی میں دہشت گرد حملہ کی منصوبہ بندی دہلی میں ہوئی۔ فرید بلوچ نے نوشکی میں فورسز کے قافلے پر حملہ کیا۔ حملے میں 5 جوان شہید جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ فرید بلوچ نے اعتراف کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی دہلی میں ہوئی، بھارت میں موجود ہینڈلرز نے مزید ٹاسک بھی دیے۔ گرفتار دہشت گرد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ را کے اہلکار نے افغانستان میں ملاقات کر کے منصوبہ بتایا، را، آر ایس ایس نے کالعدم بی ایل اے کی مدد سے منصوبہ بندی کی۔
بھارت ان دہشت گردوں کو نہ صرف ہتھیار بلکہ پیسا بھی دیتا ہے۔ دہشت گردی کی جو شکل ہمیں بلوچستان میں را اسپانسرڈ نظر آتی ہے یہ پہلی بار دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی ایل اے کو کافی کمزور کر دیا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو اب سمجھ آ رہی ہے کہ ہندوستان کا پاکستان کے خلاف جو جھوٹا بیانہ ہے دہشت گردی کا اس میں خود بھارت ملوث ہے، بلوچستان کے حوالے سے تو شکایات پاکستان نے بارہا رجسٹرڈ کروائی تھی۔ اب بھارت کی دہشت گردی کی یہ پالیسی عالمی سطح پر پاکستان کے علاوہ کینیڈا، امریکا، قطر میں نظر آئی اور دنیا نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ یہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کامیابی ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کا جو پراکسی گروپ ہے اس کا اہم سرغنہ اور اس کا نیٹ ورک آج پکڑا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی فرید بلوچ نے دہشت گردی کے دہشت گردی کی ریاستی دہشت میں بھارت بی ایل اے آئی ای ڈی بھارت کی دیتا ہے اور اس رہی ہے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی