پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ ہم نے بھارتی جارحیت کی جوابی کارروائی کے لیے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔پاک فوج ہر محاذ پر کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ہم بھارت کی ہر شعبے میں نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنی خود مختاری اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارتی بیانیہ کے مطابق یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ کہا جا رہا ہےکہ مسلمانوں نے فائرنگ کی، اور ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی بھارتی بیانیے کے متعلق سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہےکہ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جارہا ہےکہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ کرایا۔ واقعےکے چند منٹ بعد ہی بھارتی الزامات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کی بنیاد پر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی واقعےکے فوراً بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کی۔ جعفر ایکسپریس واقعے پر بھی بھارت کے اسی اکاؤنٹ سے پہلے بیان آیا، اس اکاؤنٹ سے پہلے بتایا جاتا ہےکہ چند گھنٹے میں حملہ ہوگا، بتایا جاتا ہےکہ حملہ کب اورکہاں ہوگا، پھر جب حملہ ہوتا ہے تو  وہی بھارتی مخصوص اکاؤنٹ حملےکا بتاتا ہے، بھارتی میڈیا اسی اکاؤنٹ کی بنیاد پرالزامات کو  بڑھا چڑھا کرپیش کرتا ہے، یہ وہ سوالات ہیں جس پر ہم اور دنیا غور کر رہی ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت 50 سال سے اسی ڈگر  پر چل رہا ہے، پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو، یہ ہے ان کا مقصد۔ دہشتگردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وتیرہ ہے۔ پہلگام واقعےکو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خود ایک دہشتگرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان سے بیان دلواتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے۔  اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، حالانکہ  وہ معصوم شہری تھا۔

قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نہ پہلگام واقعے میں ملوث ہے نہ اس کا بینفشری۔ بھارت نے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا ہے۔وہ  جان بوجھ کر حالات کو کشیدہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔ معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے،  نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کارروائی  ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زیادہ جانیں دے چکا ہے۔ پاکستانی قوم اور اداروں نے  دہشتگردی کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔

 اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے ساتھ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، اس واقعہ کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ بھارت دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے۔ بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور بیانات نے صورت حال کو پیچیدہ کردیا ہے۔ بھارت مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ دہشتگردی کے ہر واقعے پر الزام تراشی بھارت کا وتیرہ ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے سیاسی مقاصد کے لیے ایسے واقعات کا استعمال ہوتا ہے حالانکہ خود بھارت پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دہشتگردی سے جوڑنا چاہتا ہے۔ وہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کو کچلنے کے لیے بھارت نے کالے قوانین کا سہارا لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم تصادم روکنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں سے خطے کی صورت حال پر بات ہوئی۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم نے ایک بار پھر بھارت کو خبردار کیا کہ  قومی سلامی کونسل کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان کا پانی روکنے کا اقدام جنگ تصور ہوگا۔ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنےکی کوئی شق نہیں ہے۔ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے لائف لائن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری افواج الرٹ ہیں، پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا لیکن اگر بھارت کی طرف سے پہل ہوئی تو پاکستان اس کا بہت سخت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلگام تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔  بھارت میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ بھارت کا اپنا ڈرامہ ہوتا ہے،  بھارت میں ایسے واقعات اس وقت ہوتے ہیں جب وہاں کوئی اہم شخصیت دورہ کرتی ہے، بھارت بتائے کسی اہم شخصیت کے دورے پر ہی ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ پہلگام واقعے پر بھارت نے فوری طور  پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سوچنا ہوگا کہ بھارت نے یہ مہم جوئی کیوں کی اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ  پہلگام ایل او سی سے 230 کلومیٹر دور ہے، پہلگام کا راستہ دشوار گزار  ہے، پہلگام سے اگر کوئی تھانے تک  جاتا ہے تو اس کو 30 منٹ چاہئیں۔ پہلگام واقعے کے 10منٹ کے اندر  ایف آئی آر درج کرلی گئی، 10 منٹ میں یہ کیسے ہوگیا؟

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پہلگام کے معاملے پر عالمی برادری کے سامنے 6  سوالات  رکھے۔

کیا یہ وقت نہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا میں شہریوں کے قتل پر اس کا احتساب کیا جائے؟

کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟

کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملہ کرنے کے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟

کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟

کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟

کیا دنیا جانتی ہے کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ بھارت پہلگام واقعے اسحاق ڈار نے کہ بھارت کی کہ پاکستان کر رہا ہے پر الزام بھارت نے کرتا ہے پاک فوج نہیں کہ شریف نے کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف