ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی، بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روک دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارتی آئل کمپنیوں نے روس سے تیل کی خریداری روک دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روسی خام تیل پر دی جانے والی رعایتوں میں کمی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت کی سرکاری ریفائنریز نے روس سے تیل کی خریداری روک دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی بھارت کو 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی، تجارتی معاہدے پر دباؤ میں اضافہ
روس سے سمندری راستے آنے والے تیل کی سب سے بڑی خریدار بھارت ہے، جو دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک بھی ہے۔ تاہم جولائی میں روسی خام تیل پر دی جانے والی رعایتیں کم ہوگئی ہیں اور بھارتی سرکاری ریفائنریز اب متبادل کے طور پر مشرقِ وسطیٰ اور مغربی افریقہ کے تیل کی طرف رجوع کررہی ہیں۔
ان ریفائنریز میں انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم، بھارت پیٹرولیم اور منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکل لمیٹڈ شامل ہیں، ان اداروں نے گزشتہ ہفتے روسی خام تیل کے لیے کوئی آرڈر نہیں دیا۔
چاروں ریفائنریز روسی تیل عام طور پر ’ڈیلیورڈ بیسز‘ پر خریدتی تھیں، مگر اب یہ ادارے اس کی جگہ ابوظہبی کا ’مربان کروڈ‘ اور مغربی افریقی تیل جیسے متبادل گریڈز کی خریداری کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے 10 سے 12 دن کی مہلت دی
دوسری جانب بھارت میں پرائیویٹ سیکٹر کی ریفائنریز، جن میں ریلائنس انڈسٹریز اور نایارا انرجی شامل ہیں، روسی تیل کی سب سے بڑی خریدار بنی ہوئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ملک کی تیل ریفائننگ گنجائش کا 60 فیصد سے زائد حصہ سرکاری اداروں کے پاس ہے۔
خیال رہے کہ 14 جولائی کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس نے یوکرین سے متعلق کوئی بڑا امن معاہدہ نہ کیا تو وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کردیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا بھارت تیل خریداری ڈونلڈ ٹرمپ روس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت تیل ڈونلڈ ٹرمپ کی خریداری ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی ٹرمپ کی تیل کی
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔