متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرینگے، کسی جگہ پر قبضہ ہونا کمشنر، ڈپٹی کمشنر کی ناکامی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
لاہور+ ننکانہ صاحب+ واربرٹن+سانگلہ ہل ( نیوز رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ+ نامہ ناگاران) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ننکانہ صاحب کے دیہات پہنچ گئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب شہر اور دیہات کا ڈھائی گھنٹے طویل مسلسل دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب میں سیلابی ریلوں سے بچاؤ کے لئے دو فلڈ ڈرین بنانے کا اعلان کیا۔ ننکانہ صاحب کی روڈز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ننکانہ صاحب کی بیوٹیفکیشن کا پلان دو ہفتے میں طلب کیا اور اس کے لئے فنڈز کے جلد از جلد اجراء کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے ضلع ننکانہ صاحب کے لئے الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔اور ننکانہ صاحب کو ماڈل سٹی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے سکول کے سامنے زیبرا کراسنگ اور سائن بورڈ یقینی بنانے کی ہدایت کی اور روٹی کے نرخ کنٹرول کرنے کا حکم دیا۔ مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب کے لئے کلینک آن ویل کی تعداد بڑھانے کا حکم دیا اور شہر کے داخلی راستوں، روڈز کو بہتر بنانے اور شہر کی مرکزی سڑک کے اطراف میں بہترین شولڈر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈفرکھوکھراں اور دیگر دیہات کو مثالی گاؤں سکیم میں شامل کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے جسلانی موڑ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ گھروں اور زرعی اراضی کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے میراں پور گاؤں میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان کی تقسیم کا آغاز کیا۔ پی ڈی ایم اے سیلابی ریلے سے متاثرہ خاندانوں کو خصوصی کٹ، مچھر دانی اور ملبوسات فراہم کررہی ہے۔ مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین سے ملاقات اور بات چیت کی۔ بزرگ خواتین نے مثالی گاؤں بنانے کے اعلان پر وزیرعلیٰ مریم نواز شریف کو دعائیں دیں۔ مریم نواز شریف نے سب خواتین سے باری باری ہاتھ ملایا اور کہا کہ ’’تہانوں ملن آئی آں، تے گلاں وی کرنیاں نے‘‘۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب کے علاقے دھولار چوک، گوردوارہ جنم استھان چوک، ڈی پی ایس چوک، بیری چوک، چونگی چوک، ریلوے روڈ، پیر احمد شاہ روڈ اور مانانوالہ پھاٹک کے علاقوں کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دیکھ کر عوام کا جم غفیر لگ گیا اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پاس آگئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بچوں کو سویٹس کے تحائف پیش کیے، بچوں سے بات چیت کی۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے سیلابی ریلوں اور بارشوں پر انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں دریافت کیا۔ مریم نواز شریف نے ڈپٹی کمشنر آفس میں ننکانہ صاحب کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ نے سیلابی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ننکانہ صاحب میں ندی نالے اور نہروں کے اوور فلو ہونے سے 1525 ایکڑ رقبہ زیر آب آگیا۔ وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب میں ہمت کارڈ کے مستفید افراد کی تعداد بڑھانے کا حکم دیا۔ ننکانہ صاحب میں اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت 788 لون جاری کیے جا چکے اور 400گھر زیر تعمیر ہیں۔ سبسڈی پر 176 گرین ٹریکٹرز دیئے گئے، گندم کے کاشتکاروں کو بیس ٹریکٹرز مفت ملے۔ ننکانہ صاحب میں 267 لائیو سٹاک، 1715 منیارٹی کارڈدئیے گئے اور 242 زرعی ٹیوب ویل سولر سکیم میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سیلابی ریلوں سے متاثرہ فصلوں اور لائیو سٹاک کے نقصان کا ازالہ کریں گے۔ سیلابی ریلے سے گرنے والے کچے گھروں کے مکینوں کی مالی معاونت کی جائے گی۔ کسی جگہ پر قبضہ ہونا متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی ناکامی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ماضی میں پنجاب کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ عوام کے مسائل کے حل کیلئے مجھے بہت زیادہ فکرہوتی ہے۔ عوام کی خدمت مہربانی نہیں، میرا فرض ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ڈی سی آفس ننکانہ صاحب سے بغیر شیڈول ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچ گئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر وارڈز کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال میں موجود مریضوں اور تیمارداروں سے دستیاب سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر مریض سے مفت میڈیسن کے بارے میں دریافت کیا اور پرچیاں چیک کیں۔ مریم نواز نے ہسپتال کی مرکزی انتظارگاہ میں دستیاب میڈیسن اور ان کی تعداد بورڈ پر آویزاں کرنے کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے مریضوں کی آمد، تشخیص اور ادویات کی فراہمی کا کا وقت چیک کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہر مریض کی اوسطاً ڈیڑھ گھنٹے کے اندر تشخیص اور ادویات کی فراہمی پر اظہار تحسین کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا واربرٹن کے سیلاب متاثرہ دیہات کا دورہ، کسانوں کے نقصان کے ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے کسانوں کی فصلوں کو ہونے والے نقصان کا مکمل ازالہ کیا جائے گا، اور دیہی علاقوں میں صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز نے قلات میں قتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائی پر اظہار تشکر کیا۔ وزیراعلیٰ نے 8 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب میں ننکانہ صاحب کے نے ننکانہ صاحب سیلابی ریلوں مریم نواز نے کی ہدایت کی ڈپٹی کمشنر کا حکم دیا سے متاثرہ کی تعداد دورہ کیا کیا اور کے لئے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :