تعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ، حکومت خواتین کو قائدانہ کردار کیلئے تیار کر رہی ہے، وجیہہ قمر WhatsAppFacebookTwitter 0 31 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم، خودمختاری کی پہلی سیڑھی ہے اور حکومت خواتین کو قائدانہ کردار کے لیے تیار کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر غربت مکاو کے مطابق، جب خواتین کو وسائل، علم اور اختیار ملتا ہے تو پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری ترقی کے موضوع پر دو روزہ سیمینارز میں منعقد ہوئے۔ کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار کا مقصد خواتین کو اقتصادی ترقی میں فعال کردار کے لیے پالیسی سطح پر حمایت، ادارہ جاتی تعاون اور کمیونٹی شمولیت کو فروغ دینا تھا۔

تقریبات میں وفاقی و صوبائی قیادت، خواتین کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور میڈیا نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ پہلے روز گورنر ہاس میں ہونے والے سیمینار میں گورنر بلوچستان، وفاقی وزیر تعلیم، وفاقی وزیر غربت مکا، صوبائی وزرا اور وزیراعلی کے مشیر برائے خواتین ترقی شریک ہوئے، جبکہ دوسرے روز اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اعلی حکام نے خطاب کیا۔سیمینارز کے دوران خواتین کی سربراہی میں چلنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی خصوصی نمائش بھی ہوئی، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ اور دستکاریوں کے اسٹالز شامل تھے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے کی خواتین زراعت اور دیہی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی کوششوں کا ادارہ جاتی سطح پر اعتراف ناگزیر ہے۔ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے خواتین کی معاشی خودمختاری کو سماجی ترجیح کے ساتھ معاشی ضرورت قرار دیا اور پالیسی ساز ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔

ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولا نے مطالبہ کیا کہ خواتین کی ترقی کے لیے قانون سازی اور بجٹ محض علامتی نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر ہوں۔مشیر وزیراعلی برائے خواتین ترقی نے زور دیا کہ یہ محض مختصر منصوبوں کا نہیں بلکہ نظام سازی کا عمل ہے، جس میں خواتین کو مرکزیت دینی ہوگی۔ محکم خواتین ترقی، منصوبہ بندی و ترقی، اور زراعت کے سیکریٹریز نے بھی خواتین کے لیے پائیدار اقدامات پر روشنی ڈالی۔ماہرین کے مطابق، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی رہنماں کی بھرپور شرکت نے ان سیمینارز کو ایک مثر اور عملی پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا، جس کے ذریعے خواتین کی معاشی ترقی کے لیے زمینی حقائق پر مبنی حکمت عملی وضع کی جا سکے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کے جرمانہ عائد کرنے کا خوف، مودی نے روس سے خام تیل کی خریداری روک دی ٹرمپ کے جرمانہ عائد کرنے کا خوف، مودی نے روس سے خام تیل کی خریداری روک دی سیلاب سے تباہی،گلگت بلتستان حکومت نے 37دیہات کو آفت زدہ قرار دیدیا عدالتی فیصلہ خوش آئند، ملک کیلئے منفی سوچ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، عظمی بخاری کا سزائوں پر ردعمل پی ٹی آئی کا مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع وفاقی حکومت نے سول سروس رولز 1993میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا سینیٹ کی تجارت اور خزانہ کمیٹیوں کا کوئٹہ میں مشترکہ اجلاس،پاک ایران تجارت میں درپیش رکاوٹوں پر تبادلہ خیال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خواتین کو کر رہی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار