ضمنی انتخاب میں شکست پر برطانوی وزیراعظم کو کڑی تنقید سامنا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
ریفارم یو کے سے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد لیبر ایم پیز کی جانب سے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیک بینچرز نے وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم پر خوش فہمی کا الزام لگایا اور پالیسیوں پر سوالات بھی اٹھا دیے۔
حکومت میں ہونے کے باوجود پہلا ضمنی انتخاب نائجل فریج کی پارٹی سے 6 ووٹوں سے ہارنے کے بعد ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے کیئر اسٹارمر کو دباؤ کا سامنا ہے۔
بیک بینچرز نے وزیرِاعظم اور ان کی ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیئر اسٹارمر نے حلقے کا دورہ کیوں نہیں کیا، وہ ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہو گئے۔
ایک سینئر لیبر ایم پی نے کہا کہ حیران کن ہیں کہ مہم کتنی مطمئن تھی ہر کوئی اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ ہم معقول حد تک آرام دہ مارجن سے جیتنے جا رہے ہیں مگر غیر مقبولیت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
دوسری طرف حکومت کو موسم سرما میں ایندھن الاؤنس اور معذوری فوائد میں کٹوتی پروگرام لاگو کرنے پر بھی عوامی کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
ممبران پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ پارٹی کو اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔