‘کیا تم نے ٹرائل میچز کھیلے ہیں؟’ عمر اکمل کی وہاب پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
قومی ٹیم کے جارح مزاج مڈل آرڈر بیٹر عمر اکمل نے انکشاف کیا کہ ٹیم واپسی کیلئے سابق سلیکٹر وہاب ریاض کے پاس گیا تھا لیکن انکے بیان پر حیران رہ گیا۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مڈل آرڈر بیٹر عمر اکمل دعویٰ کیا کہ جب وہاب ریاض سلیکٹر تھے تو میں نے کہا کہ قومی ٹیم میں واپسی کرنا چاہتا ہوں اور ملک کیلئے کھیلنا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے پوچھا کہ ‘کیا تم نے ٹرائل میچز کھیلے ہیں؟’ جس پر میں حیران رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ 15 سالہ کرکٹ کیرئیر کے بعد ایسی بات کی جائے کہ آپ نے ٹرائل میچز کھیلے تو یہ بےعزتی ہے۔
قبل ازیں عمر اکمل نے سابق ہیڈکوچ وقار یونس اور کپتان یونس خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ سابق کپتان یونس خان نے انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں تیز پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ اٹیکنگ شاٹس کھیلتے تھے تو یونس ان پر تنقید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا تم نے ٹیسٹ میں ٹی20 کرکٹ کھیلنا چاہتے ہو؟۔
عمر اکمل نے دعویٰ کیا کہ ہیڈکوچ وقار یونس کو میرے بھائی کامران اور عدنان نے بھی مسائل تھے، انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ تینوں ایک ساتھ قومی ٹیم کا حصہ کیوں ہیں؟۔
انہوں نے وقار یونس پر الزام لگایا کہ ٹی20 وہ سمجھتے تھے کہ میرا اب ٹی20 میں کوئی کیرئیر نہیں بچا۔
واضح رہے کہ عمر اکمل نے آخری بار اکتوبر 2019 میں سری لنکا کے خلاف لاہور میں پاکستان کیلئے کھیلا تھا۔
ماضی میں عمر اکمل کے علاوہ محمد عامر بھی وقار یونس کی کوچنگ سے ناخوش تھے اور انہوں نے بھی سابق لیجنڈ پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عمر اکمل نے وقار یونس انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔