UrduPoint:
2026-06-03@05:36:28 GMT

اسرائیل شام میں حملے فوری طور پر روک دے، اقوام متحدہ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

اسرائیل شام میں حملے فوری طور پر روک دے، اقوام متحدہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 مئی 2025ء) شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیر پیڈرسن نے ہفتے کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں حملوں کا سلسلہ فوری طور پر ترک کر دے۔ قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے بتایا کہ اس نے رات بھر شامی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔

پیڈرسن نے ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا، ''میں دمشق اور دیگر شہروں میں متعدد فضائی حملوں سمیت اسرائیل کی جانب سے شام کی خود مختاری کے حوالے سے مسلسل اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کرتا ہوں۔

‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ حملے فوراً بند کیے جائیں اور اسرائیل شامی شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے باز رہے، بین الاقوامی قوانین اور شام کی خودمختاری، اتحاد، علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام کرے۔

(جاری ہے)

‘‘

شام میں اسرائیلی فوج تعینات

اسرائیلی دفاعی افواج نے ہفتے کے روز یہ بھی کہا کہ اس کے دستے جنوبی شام میں تعینات ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ شام میں حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد دروز اقلیت کی حفاظت کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا، ''اسرائیلی فوج جنوبی شام میں تعینات ہے اور دروز آبادی والے علاقوں میں دشمن افواج کی دراندازی کو روکنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ نئی تعیناتی ہے یا پہلے سے موجود دستوں کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

اس بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔ حوثیوں کا میزائل حملہ

اسرائیلی دفاعی افواج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل ہوا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیا جانے والا تیسرا حملہ تھا۔

یمن کے وسیع تر علاقوں پر قابض ایران نواز حوثی باغی غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں۔

اس باغی گروہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں سے دراصل فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہا ہے۔

حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کو ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے گروپ نے اسرائیل کے وسطی علاقے میں ایک فوجی تنصیب کو ''فلسطین 2 ہائپر سونک بیلسٹک میزائل‘‘ سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں اس سے پہلے کہا گیا تھا، ''یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا‘‘۔

اس حملے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بھی بجائے گئے۔

یمنی باغیوں نے غزہ جنگ کے دوران حالیہ دو ماہ کی جنگ بندی کے دوران اپنے حملے روک دیے تھے۔

تاہم مارچ میں اس گروہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر امدادی ناکہ بندی کے خلاف بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دی تھی۔

اس پیش رفت پر امریکی فوج نے ردِعمل دیتے ہوئے پندرہ مارچ سے یمن میں حوثیوں پر تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے تاکہ حوثی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں شپنگ روٹس کو نشانہ بنانے سے باز رہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ مارچ سے اب تک وہ یمن میں 1,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔

غزہ میں تازہ اسرائیلی حملے

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ رات گئے اسرائیلی فضائی حملے میں خان یونس پناہ گزین کیمپ میں کم از کم 11 افراد مارے گئے۔

ان میں تین نومولود بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں تقریبا ایک سال تھیں۔

اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے اس حملے پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسرائیل نے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد 18 مارچ کو حماس کے جنگجوؤں کے خلاف اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی تھی۔

اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل بھی روک دی ہے۔

الزام عائد کیا گیا ہے کہ حماس کے جنگجو اس سامان پر قبضہ کر رہے ہیں اور یہ عام شہریوں تک نہیں پہنچ رہا۔

اس علاقے کی مکمل ناکہ بندی بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے باسیوں کی تکالیف دوچند ہو چکی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد فلسطینی علاقے میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے اسرائیل سے یہ پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے شہری انسانی المیے کا شکار ہیں جبکہ قحط کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

غزہ پٹی میں تنازعہ شروع کیسے ہوا؟

غزہ پٹی میں مسلح تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا۔ یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں۔

اس حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

اس کے علاوہ حماس کے جنگجو 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ پٹی بھی لے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں حماس کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی، زمینی اور بحری حملے کرنا شروع کر دیے تھے، جو جنگ بندی ڈیل تک جاری رہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ پٹی میں باون ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے جبکہ غزہ پٹی کا زیادہ تر علاقہ کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔

ادارت: امتیاز احمد ، شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے ہفتے کے روز اسرائیلی فوج غزہ پٹی میں کی جانب سے حماس کے اس حملے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت