ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے سے ملک کا دفاع مزید مضبوط ہوا ہے، سردار ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2025ء)پاک افواج کے ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربہ پرسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے مسلح افواج، سانسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباددی ہے اور پاکستان کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے ۔
(جاری ہے)
ایک بیان میں سردار ایازصادق نے کہ کہ ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے سے ملک کا دفاع مزید مضبوط ہوا ہے، پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے سائنسدانوں، انجینئرز کی پیشہ ورانہ خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان، انجینئرز اور مسلح افواج پر قوم کو فخر ہے ، پوری قوم مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔سردار ایازصادق نے کہا کہ دشمن پاکستان کی مسلح افواج کی موجودگی میں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کی کامیابیوں اور کامرانیوں کیلئے دعا گو ہوں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سائنسدانوں اور انجینئرز انجینئرز کی مسلح افواج پاکستان کی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔