ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے سے ملک کا دفاع مزید مضبوط ہوا ہے، سردار ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2025ء)پاک افواج کے ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربہ پرسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے مسلح افواج، سانسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباددی ہے اور پاکستان کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے ۔
(جاری ہے)
ایک بیان میں سردار ایازصادق نے کہ کہ ابدالی ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے سے ملک کا دفاع مزید مضبوط ہوا ہے، پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے سائنسدانوں، انجینئرز کی پیشہ ورانہ خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان، انجینئرز اور مسلح افواج پر قوم کو فخر ہے ، پوری قوم مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔سردار ایازصادق نے کہا کہ دشمن پاکستان کی مسلح افواج کی موجودگی میں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،پاکستان کی مسلح افواج، سائنسدانوں اور انجینئرز کی کامیابیوں اور کامرانیوں کیلئے دعا گو ہوں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سائنسدانوں اور انجینئرز انجینئرز کی مسلح افواج پاکستان کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔