بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن ہمیشہ اپنے منفرد انداز اور باقاعدہ سوشل میڈیا موجودگی کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کا ایک نیا طرزِ بیان سوشل میڈیا صارفین کو حیران کررہا ہے۔ نہ کوئی فلسفہ، نہ کوئی شاعری، اور نہ ہی کوئی ذاتی خیال... صرف ایک عدد اور ایک ڈیش۔

22 اپریل سے امیتابھ بچن کی ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ ہونے والی ٹوئٹس میں صرف اتنا لکھا جارہا ہے: T 5356 - ، T 5357 -، اور یہ سلسلہ روز جاری ہے۔ جہاں پہلے وہ اپنی ہر ٹوئٹ میں کسی نہ کسی تجربے، واقعے یا جذباتی لمحے کو سمیٹتے تھے، اب ان کی تحریریں محض نمبروں تک محدود ہو گئی ہیں۔

یہ خاموشی محض خاموشی نہیں، بلکہ ایک معمہ بن چکی ہے۔ مداحوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کچھ اسے پہلگام واقعے پر ان کا خاموش احتجاج قرار دے رہے ہیں، تو کچھ اسے کسی فلم کی پروموشن کےلیے چالاکی سے چھیڑا گیا سسپنس قرار دے رہے ہیں۔

ایک مداح نے شکوہ کرتے ہوئے لکھا، ’’سر! کیا اب کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں؟‘‘ جبکہ دوسرے نے سوال کیا، ’’کیا یہ کسی نئی فلم کا پروموشن ہے؟‘‘

کچھ صارفین تو یہاں تک چلے گئے کہ امیتابھ بچن کے ارادوں کو سمجھنے کے لیے ’ایکس‘ کے AI چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے مدد لینے لگے۔ مداحوں کی اس بے چینی کے پیچھے شاید اس بات کا بھی ہاتھ ہے کہ حال ہی میں امیتابھ نے شکوہ کیا تھا کہ اُن کی ساری کوششوں کے باوجود فالوورز کی تعداد 49 ملین سے نہیں بڑھ پا رہی۔

ان کے اس شکوے پر مداحوں نے دلچسپ مشوروں سے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ وہ انسٹاگرام ریلس بنائیں، تو کسی نے مذاق میں تجویز دی کہ ریکھا کے ساتھ سیلفی پوسٹ کردیں، تو فالوورز کی تعداد خودبخود بڑھ جائے گی۔

پیشہ ورانہ محاذ پر بات کی جائے تو امیتابھ بچن ایک بار پھر ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے 17ویں سیزن میں میزبان کے طور پر واپس آ رہے ہیں۔ 2000 سے جاری اس شو میں ان کی موجودگی ہمیشہ ناظرین کو سحر میں جکڑ لیتی ہے، سوائے تیسرے سیزن کے جب میزبان کی کرسی پر شاہ رخ خان بیٹھے تھے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امیتابھ بچن کی یہ خالی ٹوئٹس کسی بڑے اعلان کا پیش خیمہ ہیں یا واقعی کسی خاموش احتجاج کا حصہ؟ فی الحال، سوشل میڈیا پر بس ایک سوال گونج رہا ہے: ’’T کے بعد آخر ہے کیا؟‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امیتابھ بچن رہے ہیں

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین