ملائشیا انڈیا سے پہلگام واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرے، وزیراعظم شہباز کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
سٹی 42: وزیر اعظم شہباز شریف نے ملائیشیاکے وزیر اعظم داتو سری انور ابراہیم کو بھارت کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں موجودہ کشیدگی سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ ملائشیا بھارت پر پہلگام واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے ملائشیا سے بھی اس تحقیقات میں شامل ہونے کی بھی درخواست کی۔
شہباز شریف نے آج اتوار کے روز ملائشیا کے وزیراعظم کو فون کال کی اور انہین صورتحال سے آگاہ کیا۔
پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز اور کراچی کنگز میں آج جوڑ پڑے گا
شہباز شریف نےپہلگام مین سیاحوں کے قتل کے واقعہ کو بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو جوڑنے کی کوشش کو مسترد کر دیا اور اس واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی تحقیقات کے لیے پاکستان کی پیشکش کو دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تحقیقات میں ملائیشیا کی شرکت کا خیر مقدم کرے گا۔
وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر پاکستان کے کردار اور اس کوشش میں اس کی زبردست قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے اقدامات پاکستان کی مغربی سرحد پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔پاکستان بھارت کے ساتھ اس طرح کے تنازعہ میں الجھنا نہیں چاہتا۔
9سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم عمر گرفتار
دونوں وزرائے اعظم نے پاکستان ملائیشیا تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ اس تناظر میں وزیراعظم نے بتایا کہ وہ اس سال ملائیشیاء کا سرکاری دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔ یہ ٹیلی فون کال پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قریبی دوستی کی عکاس ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
بانی پی ٹی آئی آج بھی مقبول لیڈر ہیں:مسرت چیمہ
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔