ترک بحری جہاز کی آمد لازوال دوستی و بھائی چارے کی علامت ہے: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
—آئی ایس پی آر یو ٹیوب ویڈیو اسکرین گریپ
ترک بحری جہاز ٹی سی جی بویو کاڈا خیر سگالی دورے پر کراچی پہنچ گیا۔
یہ بات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے اعلامیے میں بتائی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کراچی بندرگاہ پر ترک بحری جہاز کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔
بھارتی صارفین نے پاکستانی ملی نغمہ چلنے پر اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پاک ترک بحری تعاون اور پیشہ ورانہ امور پر تبادلۂ خیال ہو گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ترک بحری جہاز کی آمد پاک ترک لازوال دوستی اور بھائی چارےکی علامت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترک بحری جہاز آئی ایس پی آر
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔