لاہور: عشق میں ناکامی پر ملزم کے ہاتھوں ماں بیٹی قتل
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
فوٹو فائل
لاہور کے سرحدی علاقے ہئیر میں عشق میں ناکامی پر ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ لڑکی کو اغواء کر کے قتل کر دیا، مقتولہ کی ماں مدعیہ بنی تو اسے بھی 3 ماہ بعد اغواء کر کے قتل کر دیا۔
کاؤنٹر ٹیرازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ترجمان کے مطابق یوسف نامی شخص نورین نامی لڑکی سے عشق کرتا تھا، ناراضگی ہوئی تو اسے بہانے سے بلایا اور 27 مئی 2024ء کو اغواء کر کے قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے خوشاب، محبت میں ناکامی، لڑکے نے محبوبہ کو قتل کر کے خودکشی کرلیماں اقراء بی بی بیٹی کے قتل کی مدعیہ بنی تو ملزم نے 12 اکتوبر 2024ء کو اسے بھی اغواء کر کے قتل کر دیا، ماں بیٹی کو 3 ماہ کے وقفے سے قتل کیا گیا اور دونوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔
پولیس نے 3 ملزمان یوسف، ناصر اور منصب کو گرفتار کر کے آلۂ قتل برآمد کر لیا۔
ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ماں اور بیٹی کی لاشوں کے ٹکڑے کر کے نہر میں بہا دیے تھے، ملزمان کو انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔