منگچر، مسلح افراد نے قیدیوں کو فرار اور پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پولیس ذرائع کے مطابق مگنچر کے مقام پر مسلح افراد نے ناکہ بندی کرکے دس قیدیوں کو فرار اور پانچ پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ نامعلوم مسلح افراد نے منگچر قومی شاہراہ ناکہ بندی کے دوران قیدی لے جانیوالی وین کو روک کر دس قیدیوں کو فرار اور پانچ پولیس اہلکاروں کو اغواء کر لیا۔ مذکورہ قیدیوں کو گڈانی جیل سے پیشی کیلئے کوئٹہ لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق حب پولیس کا اے ایس آئی، تین ہیڈ کانسٹیبلز اور چار کانسٹیبلز جمعہ کی صبح گڈانی جیل سے دس قیدیوں کو لیکر پرائیویٹ ویگن میں کوئٹہ آرہے تھے۔ شام سات بجے ان کی وین جب منگچر پہنچی تو قومی شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ اس دوران مسلح افراد نے وین میں سوار قیدیوں کو چھڑا کر فرار کروا دیا، جبکہ اے ایس آئی سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو اسلحہ سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے گاڑی کا ڈرائیور اور گاڑی کو چھوڑ دیا۔ دو اہلکار سادہ کپڑوں میں ہونے کے باعث بچ نکلے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرار ہونے والے دو سزا یافتہ قیدی تھے۔ جن میں ایک قیدی کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی، جنہیں مچ جیل منتقل کرنا تھا۔ دونوں قیدیوں نے اپنی بیویوں کو قتل کیا تھا جبکہ آٹھ قیدی منشیات کے مقدمات میں گڈانی جیل میں قید تھے اور انڈر ٹرائل تھے۔ جن کی پانچ مئی کو کوئٹہ کی عدالت میں پیشی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ویگن کے ڈرائیور نے حب پہنچ کر پولیس کے اعلیٰ حکام کو واقعہ کی اطلاع دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے قیدیوں کو
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔