اسحاق ڈار کا روسی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی اور بھارت کے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا پاکستان اور بھارت سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ
دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اتوار کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
اسحاق ڈار نے روسی وزیر خارجہ کو خطے میں حالیہ پیشرفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بھارت کے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی بھارتی کارروائی کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک بین الاقوامی، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور روس کا تعاون مزید بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی روابط پر اتفاق
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور تصادم سے بچنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور روس کے تعلقات میں مثبت رجحان پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیلی فونک رابطہ روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیلی فونک رابطہ روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار خارجہ سرگئی لاوروف پاکستان کے اسحاق ڈار کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔