اسحاق ڈار کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، بھارتی اقدامات یکسر مسترد کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور ملائیشین وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں راہنماؤں نے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے خلاف بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات اور بے بنیاد الزامات یکسر مسترد کر دیئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ملائیشین وزیر خارجہ داتو سری محمد حسن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں راہنماؤں نے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کے خلاف بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات اور بنیاد الزامات یکسر مسترد کر دیئے۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے، پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفاد کے تحفظ کا بھرپور حق رکھتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملائیشین وزیر خارجہ نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اس موقع پر دونوں راہنماؤں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ کے پاکستان کے اسحاق ڈار کے مطابق
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔