ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ ایرانی وفد اسلام آباد سے منگل کے روز بھارت بھی جائے گا۔ ایرانی وفد کی بھارت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں تیز، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ پاک بھارت کشیدگی پر بھی بات کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔ واضح رہے کہ ایرانی وفد اسلام آباد سے منگل کے روز بھارت بھی جائے گا۔ ایرانی وفد کی بھارت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ ایرانی وفد پر بھی بات کہ ایرانی کریں گے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔