مظفرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف والے ان کے بھائی ہیں۔
نجی ویب سائٹ اردو نیوز کے مطابق پیر کوآزاد کشمیر میں بین الااقوامی اور مقامی میڈیا کے ایک گروہ سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پی ٹی آئی والے اپنے ہی بھائی ہیں اور جب پاکستان کی بات آئے گی تو سب اکٹھے ہو کر لڑیں گے۔‘انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے لئے ہم سب ایک ہیں اور آپس میں ہم بعد میں لڑ لیں گے۔ ہم اپنی لڑائی دو تین مہینے بعد لڑ لیں گے۔‘
عطا اللہ تارڑ میڈیا کے نمائندوں کے ہمراہ پاکستان اور انڈیا کے بیچ لائن آف کنٹرول سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر بیلہ نور شاہ کے مقام پر گئے تھے جس کے بارے میں انڈیا نے الزام لگایا ہے کہ وہاں پر دہشت گردوں کا تربیتی کیمپ ہے۔وزیر اطلاعات نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ یہ جگہ ایک سیرگاہ ہے اور یہاں سیاح پکنک منانے آتے ہیں نہ کہ دہشت گرد عسکری تربیت حاصل کرنے۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ’آزاد کشمیر کے علاقے بیلہ نور شاہ اور پیر چناسی سے متعلق انڈین الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں، یہاں نہ صرف مقامی آبادی معمول کی زندگی گزار رہی ہے بلکہ تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں اور سیاحت بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
’انڈیا نے نقشے کی بنیاد پر جھوٹا پراپیگنڈا کیا لیکن ہم نے میڈیا کو موقع دیا کہ وہ خود آ کر یہاں دیکھے کہ یہ الزامات کس قدر بے بنیاد ہیں۔‘
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’ہم یہاں یہ بتانے آئے ہیں کہ یہاں پر دہشت گردی کا کوئی کیمپ نہیں ہے، زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، لوگ اپنے کام کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بیانیے کی جنگ میں انڈیا کو شکست دے دی ہے۔ ہم نے ان کے گھر میں گھس کر ان کو مارا ہے۔ انہوں نے ہمارے یوٹیوب چینلز بند کئے تھے تو ہم نے ان کے یوٹیوب چینلز پر اپنے افواج پاکستان کے اشتہارات چلا دیے ہیں۔ انفارمیشن وار فیئر میں ہم ان سے بہت آگے ہیں اور وہ ہم سے بہت پیچھے ہیں۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان مختلف ممالک میں ڈوزیئر بھی بھجوا رہا ہے اور خصوصی وفود بھی روانہ کرنے کے لئے غور ہو رہا ہے تاکہ بیرونی دنیا کو پہلگام واقعے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کا مو¿قف موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔بیلہ نور شاہ میں جس مقام کا صحافیوں کو دورہ کروایا گیا اس کے بالکل ساتھ سرکاری اور ایک نجی سکول ہے جو معمول کے مطابق چل رہا تھا اور اس میں بچے اور بچیاں کلاسز لے رہے تھے۔
اس مقام کے ایک طرف لائن آف کنٹرول 26 کلومیٹر کے قریب ہے جبکہ دوسری طرف 45 کلومیٹر اور یہ مظفرآباد سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اس مقام کے قریب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مانسہرہ کی سرحد بھی ملتی ہے۔
بیلہ نور شاہ کے مقامی شہری حماد رضا نے بتایا کہ ان کے علاقے میں انڈین دھمکیوں کے باوجود حالات معمول پر ہیں اور انہوں نے عسکریت پسندوں کو اپنے علاقے میں نہیں دیکھا۔
بیلہ نور شاہ اور نواحی علاقوں کے بازار اور دکانوں میں بھی کاروبار جاری تھا اور ٹریفک رواں دواں تھی۔
مظفر آباد کے کمشنر گفتار حسین نے بتایا کہ حکومت کسی بھی صورتحال کے لئے تیار ہے اور انڈین فوج کے حملے سے پیدا ہونے والے نمٹنے کے لئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

ٹرمپ کا غیر امریکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات بیلہ نور شاہ پاکستان کے کے مطابق انہوں نے ہیں اور نے کہا کے لئے کہا کہ

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف