دبئی ایئرپورٹ کے تمام آپریشنز المکتوم ہوئی اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 06 مئی 2025ء ) دنیا کے معروف اور مصروف ترین دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تمام آپریشنز المکتوم ہوئی اڈے کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ خلیجی میڈیا کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) کے تمام آپریشنز اگلے چند سالوں میں المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DWC) کو منتقل کر دیئے جائیں گے، جس کے لیے المکتوم ایئرپورٹ میں 128 بلین درہم کی لاگت سے ایک نیا مسافر ٹرمینل تعمیر کیا جارہا ہے جو مسافروں کی گنجائش کو 260 ملین سالانہ تک بڑھا دے گا اور 10 سالوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز مکمل طور پر وہاں منتقل ہوجائیں گے، نئے ٹرمینل کی تعمیر کا اعلان ہوائی اڈے کی توسیع کے دوسرے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، دونوں ہوائی اڈوں کے آپریٹر نے ایک بیان میں کہا کہ دبئی ایئرپورٹ اگلے چند سالوں میں 100 ملین سے زیادہ مہمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی مرکز کے طور پر خدمات انجام دیتا رہے گا۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ ایمریٹس ایئرلائن نے نئے ہوائی اڈے کو اپنا "مستقبل کا گھر" قرار دیتے ہوئے المکتوم ہوئی اڈے کی تصاویر شیئر کیں، یہ نیا ہوائی اڈہ دبئی ایئرپورٹ کے سائز سے 5 گنا بڑا ہوگا جو تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد 70 مربع کلومیٹر تک پھیل جائے گا، اس میں پانچ متوازی رن وے اور پانچ مسافر ٹرمینل ہوں گے جن میں 400 سے زیادہ ہوائی جہازوں کے لیے الگ الگ سٹینڈز ہوں گے، پچھلے سال نومبر میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے دبئی ایئرپورٹ کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا تھا جو کہ دنیا کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے جس کو اب اس سے بھی بڑے ہوئی اڈے کے ساتھ تبدیل کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد کا کہنا ہے کہ کہا کہ "المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کی سب سے بڑی گنجائش والا ہوائی اڈہ ہوگا، جس میں 260 ملین مسافروں کی آمدورفت ہوگی جہاں ایوی ایشن کے شعبے میں پہلی بار ہوا بازی کی نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جائے گا، امارات کی جانب سے دبئی ساؤتھ میں ہوائی اڈے کے ارد گرد ایک پورا شہر بنانے کے ساتھ دس لاکھ لوگوں کے لیے مکانات کی تعمیر کی جائے گی، یہ لاجسٹک اور ہوائی نقل و حمل کے شعبوں میں دنیا کی معروف کمپنیوں کی میزبانی کرے گا، دبئی دنیا کا ہوائی اڈہ، اس کی بندرگاہ، اس کا شہری مرکز اور اس کا نیا عالمی مرکز ہوگا"۔ سٹی کارپوریشن، دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے صدر اور ایمریٹس ایئر لائن اور گروپ کے چیئرمین اور سی ای او شیخ احمد بن سعید نے کہا کہ "ال مکتوم انٹرنیشنل پانچ متوازی رن ویز پر مشتمل ہوگا جس میں چار گنا آزاد آپریشن، ویسٹ اور ایسٹ پروسیسنگ ٹرمینلز، 400 سے زیادہ ہوائی جہاز کے رابطے کے اسٹینڈز کے ساتھ چار سیٹلائٹ کنسرس، مسافروں کے لیے بلاتعطل خودکار پیپل موور سسٹم اور سڑکوں کے لیے ایک مربوط لینڈ سائیڈ ٹرانسپورٹ ہب، میٹرو اور سٹی ٹرانسپورٹیشن کا انتظام ہوگا"۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ دبئی ایئرپورٹ ایئرپورٹ کے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔