محکمہ ماحولیات، سیپا میں وقار پھلپوٹو نئے ڈی جی تعینات
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
سابق ڈی جی نعیم مغل کے تمام چہیتوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا،بدعنوان بے چین
نعیم مغل کی اپنے پسندیدہ جونیئر افسر کو نیا ڈی جی سیپا تعینات کرانے کی کوششیں ناکام
محکمہ ماحولیات کے ماتحت ادارے سیپا میں وقار پھلپوٹو نئے ڈی جی تعینات ہو گئے ، سابق ڈی جی نعیم مغل کے چہیتوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ماحولیات کے ماتحت ادارے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) میں نعیم مغل کا 15 سال سے راج تھا، 2 دو برس قبل نعیم مغل کی جانب سے چھٹی پر جانے کے بعد ان کی سفارش پر ایک جونیئر افسر کو قائم مقام ڈی جی سیپا تعینات کیا گیا، نعیم مغل گزشتہ ماہ ریٹائر ہونے کے بعد دوبارہ کانٹریکٹ پر تعینات ہونے کی کوششوں میں مصروف رہا، نعیم مغل کی کوشش تھی کہ ان کی تعیناتی نہ ہونے کی صورت میں ان کے پسندیدہ جونیئر افسر کو نیا ڈی جی سیپا تعینات کیا جائے لیکن نعیم مغل کی ایک نہ چلی اور حکومت سندھ نے سیپا کے سینئر ترین گریڈ 20 کے افسر وقار حسین پھلپوٹو کو نیا ڈی جی تعینات کیا ہے ۔ سیپا میں نئے ڈی جی کی تعیناتی کے بعد سابق ڈی جی نعیم مغل کے چہیتے افسران ڈپٹی ڈائریکٹر محمد کامران یا کامران کیمسٹ سمیت دیگر افسران کا مستقبل خطرے سے دو چار ہے کیونکہ نعیم مغل نے کامران کیمسٹ اور دیگر چہیتے افسران کو اضافی پوسٹنگ سے نوازا، سابق ڈی جی سیپا نعیم مغل کے چہیتے افسر نعیم مغل حکومت سندھ سے چھٹی لینے کے علاوہ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے کینیڈا چلے گئے جس پر کامران کیمسٹ کو بھگوڑا قرار دیا گیا اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی لیکن نعیم مغل نے کامران کیمسٹ کے خلاف کارروائی نہیں کی، نعیم مغل کے ایک اور چہیتے افسر کو کرپشن کی شکایات پر لاڑکانہ تبادلہ کیا گیا لیکن کچھ وقت کے بعد مذکورہ افسر کو دوبارہ کراچی میں پوسٹنگ دے دی گئی، نعیم مغل کے دور میں جعلی ماحولیاتی منظوریاں دی گئیں جس پر انکوائری بھی کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، سابق ڈی جی نعیم مغل کے مبینہ فرنٹ مین کی املاک تفصیلات بھی سامنے آئیں لیکن اس کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سابق ڈی جی نعیم مغل کے کامران کیمسٹ نعیم مغل کی افسر کو کے بعد
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔