Express News:
2026-07-24@09:55:59 GMT

دنیا کی صلیب پر لٹکی ہوئی انسانیت

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

جب میں یہ سطور لکھ رہی ہوں، اس وقت دنیا کے کسی کونے میں ایک بچہ ملبے کے نیچے کراہ رہا ہے،کہیں ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کی لاش کو سینے سے لگا کر بین کر رہی ہے اورکہیں کسی بوڑھے کی آنکھوں میں وہ سوال ہے جو صدیوں سے انسانیت سے پوچھا جا رہا ہے ’’ آخر ہمارا قصورکیا تھا؟‘‘ لیکن جواب دینے والے سب طاقتور، سب عالمگیر ضمیر کے ٹھیکے دار ، سب ادارے خاموش ہیں۔ یہ خاموشی ہماری دنیا کا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔

اس وقت اگر ہم دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ہر خطہ چیخ رہا ہے، ہر براعظم میں کوئی نہ کوئی آتش فشاں پھٹ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین کی سرزمین خون سے تر ہے۔ غزہ کی گلیوں میں وہ چیخیں گونجتی ہیں جنھیں سننے کے لیے اقوام متحدہ کے کان بہرے ہو چکے ہیں۔ بچوں کی لاشیں تباہ شدہ اسکول بمباری سے ملبہ ہوئے گھر اور پانی کے لیے ترستی بستیاں یہ سب آج کے مہذب دور میں ہو رہا ہے۔

امریکا جو کبھی دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار بننے کا دعویٰ کرتا تھا، وہ آج اسرائیل کو ہتھیار مہیا کر کے اس نسل کشی کا حصہ بن چکا ہے۔ کانگریس میں اگر کوئی سیز فائرکا لفظ بول دے تو وہ غدار قرار پاتا ہے۔ عالمی میڈیا جو کبھی سچ کی تلاش میں ہراول دستہ کا کام کیا کرتا تھا وہ اب طاقتوروں کی زبان بولتا ہے۔ بی بی سی اور سی این این کی اسکرینوں پر بمباری کے مناظر کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی ویڈیو گیم ہو۔ گویا انسانی زندگی ایک تماشہ بن چکی ہے۔

یوکرین اور روس کی جنگ نے یورپ کو اقتصادی طور پر جھنجھوڑ دیا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان دونوں ممالک کی جنگ میں بھی سچ صرف طاقتور کے منہ سے نکلتا ہے۔ نیٹوکا کردار متنازع ہے اور روس کا رویہ جارحانہ۔ دونوں اطراف انسانی جانوں کی کوئی وقعت نہیں۔ ہزاروں نوجوان جو صرف اپنی سرزمین سے محبت کرتے تھے توپوں کی خوراک بن گئے، لیکن عالمی طاقتوں کا ضمیر سکون سے سو رہا ہے کیونکہ ان کی معیشتیں جنگوں سے ہی تو پروان چڑھتی ہیں۔

افریقہ کے کئی ممالک میں فوجی بغاوتوں کی نئی لہر آئی ہے۔ مالی نائجر اور چاڈ جیسے ممالک ایک بار پھر بندوقوں کے رحم و کرم پر آ گئے ہیں۔ جمہوریت کا خواب ایک بار پھر دور ہوتا جا رہا ہے۔ اقوامِ عالم کو ان مظلوم خطوں کے عوام کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہاں تیل یا گیس کے ذخائر نہیں نہ ہی وہ مارکیٹس ہیں جہاں بڑی طاقتیں اپنی مصنوعات بیچ سکیں۔ اس لیے ان کی اذیتیں کسی کو نظر نہیں آتیں نہ ہی کوئی ان پر رپورٹنگ کرتا ہے۔

چین اور امریکا کے درمیان معاشی سرد جنگ تیز ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ دو طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے آ چکی ہیں۔ تائیوان کو لے کر جو کشیدگی بڑھ رہی ہے، اس سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لیکن اس تمام جھگڑے میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام لوگ ہوں گے جن کا نہ تائیوان کے آئینی موقف سے کوئی لینا دینا ہے نہ ہی وہ ون چائنا پالیسی کے پیچیدہ مباحث سے واقف ہیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ جنگ کا مطلب موت ہے، بھوک ہے، بے گھر ہونا ہے۔

اسی دوران برطانیہ میں اسلاموفوبیا نے نئی شکل اختیارکی ہے۔ ایک ایسے سماج میں جہاں انسان کے بنیادی حقوق کو آئینی تحفظ حاصل ہے، آج مسلمانوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر نفرت کا سامنا ہے۔ یورپ میں مہاجرین کے خلاف جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں۔ سمندروں میں ڈوبتے ہوئے وہ لوگ جو صرف ایک محفوظ زندگی چاہتے ہیں، ان کے لیے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ انسانی ہمدردی اب پاسپورٹ اور ویزے کی محتاج ہو چکی ہے۔

اور ہندوستان جسے کبھی جمہوریت کی سب سے بڑی تجربہ گاہ کہا جاتا تھا، وہاں آج مسلمانوں کے ساتھ سلوک کسی بھی مہذب سماج کے لیے شرم کا باعث ہونا چاہیے۔ ایک ملک جوگاندھی نہرو اور امبیڈکرکی تعلیمات پر فخرکرتا تھا، آج ہندوتوا کے پرچم تلے اقلیتوں کو دیوار سے لگا رہا ہے۔ عدالتیں خاموش، میڈیا، اندھا اور عوامی ضمیر بے حس ہو چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کے لاپتا ہونے کی خبریں اب کسی اخبار کی شہ سرخی نہیں بنتیں۔ گویا ظلم معمول بن چکا ہے اور معمول ہی سب سے بڑا جرم ہوتا ہے۔

ایران اور افغانستان میں خواتین کی آواز کو دبانے کے نئے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں بچیاں اسکول نہیں جا سکتیں، ایران کی خواتین اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں تو انھیں فساد فی الارض قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن عالمی برادری کی زبانیں تب کھلتی ہیں جب ان ممالک کے حکمران مغرب کے مخالف ہوں، اگر وہ مغرب نواز ہوں تو انسانی حقوق کا ذکر بھی جرم بن جاتا ہے۔

یہ کیسی دنیا ہے جہاں جمہوریت صرف اس وقت اچھی لگتی ہے جب وہ ہماری ترجیحات کے مطابق ہو؟ انسانی حقوق صرف وہی ہوتے ہیں جن سے ہماری تجارت کو فائدہ ہو؟ کیا اقوام متحدہ واقعی اقوام کی نمایندہ ہے یا صرف طاقتوروں کا کلب بن چکی ہے؟ کیا عالمی عدالتِ انصاف واقعی انصاف کا ادارہ ہے یا صرف ان مقدمات کو سنتی ہے جو مغرب کی مرضی کے مطابق ہوں؟

ان تمام سوالوں کے درمیان اگرکوئی چیز باقی ہے تو وہ عام انسان کی ہمت اس کی مزاحمت اور اس کی امید ہے۔ فلسطین کی ماں جب ملبے میں دبے بچے کو اٹھاتی ہے اورکہتی ہے ہم ہارے نہیں تو وہ پوری انسانیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ یوکرین کا وہ رضاکار جو زخموں سے چور ہو کر بھی اسپتال میں بچوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا ہے وہ اس دنیا کی آخری کرن ہے۔ ایرانی لڑکیاں جو کتابوں کو سینے سے لگائے سڑکوں پر نکلتی ہیں وہ آنے والے وقت کی نوید ہیں۔

اس وقت ہمیں صرف مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، بغیر اس کے مذہب رنگ نسل قومیت یا ریاستی شناخت کو دیکھتے ہوئے۔ ہمیں اپنی ہمدردی کو عالمی بنانا ہو گا کیونکہ آج جو ظلم کسی اور کے دروازے پر ہو رہا ہے وہ کل ہمارے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔ ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا ہے جن کے پاس میڈیا نہیں جو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہیں بن سکتے جو اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر نہیں آتے۔

ہمیں دنیا کو بدلنا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے ایک فرض ہے۔ ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہے چاہے وہ اسرائیل کرے یا حماس روس کرے یا نیٹو امریکا کرے یا چین ایران کرے یا بھارت۔ کیونکہ جب ہم ظلم کو نظر انداز کرتے ہیں تو ہم اس کے شریک ہو جاتے ہیں۔

یہ دنیا یہ زمین سب انسانوں کی مشترکہ وراثت ہے۔ اسے خون سے نہیں محبت سے سینچنے کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو لفظ سے محبت کرتے ہیں جو سچ کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں اور جو جانتے ہیں کہ خاموشی سب سے بڑا گناہ ہے۔

اس کالم میں، میں نے دنیا بھر میں جاری ظلم اور بے حسی کا ذکر کیا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ ان زخموں پر صرف مرہم نہ رکھا جائے بلکہ ان کے پیچھے چھپے اسباب کو بے نقاب کیا جائے۔ آیندہ کالموں میں ایک ایک کر کے ان حالات ان سانحات اور ان چپ رہنے والوں پر تفصیل سے بات کرنے کا ارادہ ہے کہ سچ کہنا سچ سننا اور سچ لکھنا ہی اس دور میں سب سے بڑی مزاحمت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چکی ہے رہا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن