بھارتی حملے کے بعد پاکستان کا جواب، وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے آج سہ پہر 3:30 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس بھی ہوا تھا جو 2 گھنٹے تک جاری رہا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیف شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت کے بزدلانہ حملے میں 26 معصوم شہری شہید اور 46 زخمی ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی، بھارت کی دوڑیں، عرب دنیا سے پاکستان پر اثر و رسوخ استعمال کرنیکی درخواست پاک فضائیہ نے بھارت کے 5 طیارے، 2 ڈرونز گرا دیےاجلاس میں ملکی سیکیورٹی صورتِ حال، بھارتی جارحیت اور پاکستان کے مؤثر جواب پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں موجودہ صورتِ حال سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی آئندہ کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔