پاکستان اور بھارت کے مابین دو دہائیوں کی بد ترین جھڑپیں، 38 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 مئی 2025ء) بھارت کے خلاف جوابی کارروائی شروع ہو چکی ہے، پاکستانی وزیر دفاع
پاکستان اور بھارت کے مابین دو دہائیوں کی بد ترین جھڑپیں، 38 افراد ہلاک
پاکستان اور بھارت کے مابین دو دہائیوں کی بد ترین جھڑپیں، 38 افراد ہلاکبھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملوں کے بعد دونوں حریف ممالک کے مابین متنازعہ سرحد پر شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے، اس لڑائی میں دونوں جانب سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ حالیہ برسوں میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بدترین کشیدگی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بھارتی حملوں اور سرحدی گولہ باری میں اس کے کم از کم سے 26 شہری مارے گئے، جبکہ نئی دہلی نے پاکستانی شیلنگ میں 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔(جاری ہے)
یہ جھڑپیں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں دو ہفتے قبل ایک حملے میں چھبیس افراد کی ہلاکت کے بعد ہوئی ہیں۔
حالیہ حملے 2019 کے ان بھارتی فضائی حملوں سے زیادہ شدید قرار دیے جا رہے ہیں، جب نئی دہلی نے ایک خودکش بمبار کے حملے میں اپنے سکیورٹی فوسز کے چالیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے اندر فضائی حملے کیے تھے۔
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مرتبہ ’’دہشت گردی کے کیمپوں‘‘ کو تباہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نو کارروائیاں ’’منظم، نپی تلی اور غیر اشتعال انگیز‘‘ تھیں۔ بھارتی فوج کے مطابق، ’’انصاف کیا جا چکا ہے۔‘‘ حساب چکانے میں دیر نہیں لگائیں گے، پاکستانی وزیر دفاعدوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ حملے اندرون ملک مقبولیت بڑھانے کے لیے کیے۔
انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ’’جوابی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ ہم حساب چکانے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گے۔‘‘ پاکستانی فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔ جبکہ ایک بھارتی سکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت کے تین جنگی طیارے اس کے اپنے ہی علاقے میں گر کر تباہ ہوئے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افراد ہلاک بھارت کے کے مابین کہ بھارت کے بعد
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم