بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے 7سالہ بچے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے 7 سالہ بیٹے ارتضیٰ عباس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیرسمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔
اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری ، سربراہ پاک فضائیہ ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملٹری افسرا ن نے شرکت کی ۔اس دوران وزیر اعظم ، صدر مملکت اور آرمی چیف نے شہید کے بھائی کو بھی حوصلہ دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کے علاقے داو راندی میں بھارتی جارحیت کے باعث شہیدہوئے تھے۔
طلباء کی’’ پاکستان زندہ باد‘‘ ریلی، اب بھارت ہمارا ہر جواب یاد رکھے گا: وزیر تعلیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔