اسلام آباد:بھارت کی طرف سے پاکستان اور آزادکشمیرمیں ہونے والے بڑے فضائی حملے میں 70بھارتی لڑاکاطیاروں نے حصہ لیااور اس حملے کو ناکام بنانے کے لئے پاک فضائیہ کے 30لڑاکاطیاروں نے اڑان بھری،ایک گھنٹے تک فضائی جنگ ہوئی جس میں پاکستان کا پلڑابھارتی رہااور بھارت کے پانچ طیارے مارگرائے گئے جن میں رافیل،مگ 29،سخوئی وغیرہ شامل ہیں،پاک فضائیہ کے سربراہ کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں بہاولپورکے بجائے مظفرآباداور آزادکشمیرکے دیگرعلاقوں میں بھارتی طیاروں کو ہدف بنایاگیا،اس بات کا انکشاف ایئروائس مارشل (ریٹائرڈ)مسعود اخترنے ایک ٹی وی انٹرویومیں کیا،انہوں نے انکشاف کیاکہ بھارت کی طرف سے 70طیارے مظفرآبادکے اوپرآئے،رافیل،مگ29،معراج2000 طیارے بھارتی طیاروں میں شامل تھے جب کہ پاکستان نے 26سے 30طیاروں نے جوابی کارروائی میں حصہ لیا،بھارتی طیاروں نے جب اپنے ہتھیارچلادیئے تو ان کاسراغ لگالیاگیاتقریباًایک گھنٹے تک یہ مقابلہ فضامیں جاری رہا،مسعوداخترکے مطابق ایئرچیف نے فیصلہ کیاکہ فیصلہ کن کم بیٹ نے ایک جگہ پرکرناہے جب بھارتی طیارے جنوب سے بہاولپورکی طرف گئے تو وہاں بھی ہمارے جہازپہنچ گئے تھے لیکن ائیرچیف نے فیصلہ کیاکہ وہاں سے واپس پیچھے آناہے کیونکہ وہاں بین الاقوامی سرحد ہے فیصلہ کن حملہ مظفرآباد اور لائن آف کنٹرول کے اوپرکرنے کی حکمت عملی طے ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ایک گھنٹے کی جنگ شایدفضائیہ کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔تصورکیاجائے کہ بھارتی پائلٹوں کے کتنے پسینے نکلیں ہوں گے ،اللہ تعالیٰ کاشکرہے کہ پاکستان کوکامیابی ملی اور مودی جس رافیل طیارے کاذکرکرتے ہوئے کہتاکہ اگر2019میں ہمارے پاس ہوتاتو نہ گرتامگراب رافیل بھی گرچکے ہیںاوربھارت نے خود بھی تسلیم کرلیاہے کہ ان کے طیارے پاک فضائیہ نے گرائے ہیں اور یہ بھارتی ایئرفورس کے لئے صدمے اور شرم کی بات ہےاس سے ان کامورال گراہے۔مسعود اخترکے مطابق بھارتی طیارے پوری منصوبہ بندی اور تیاری کے ساتھ آئے تھے ہم نے تو ان کا کھوج لگاکرجواب دیناتھاہمارے طیاروں کی تعدادبھارتی طیاروں کے مقابلے میں نصف بھی نہیں تھی 70میں سے 5طیارے مارگرانابہت بڑی اور تاریخ کامیابی ہے،یہ ایک معجزہ اوراللہ تعالیٰ کاخاص کرم ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی طیاروں پاک فضائیہ طیاروں نے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن