بھارت کا رافیل طیاروں کا تکبر خاک میں مل گیا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا رافیل طیاروں کا تکبر خاک میں ملا دیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت کے خلاف پہل نہیں کی لیکن جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پچھتر سے اسی فائٹرز نے بارڈر پر فائر کیا جس کا جواب دیا گیا ایک گھنٹہ سرحد پرجنگ رہی، ہماری فضائیہ نے بھرپور جواب دیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے جن پانچ طیاروں نے پاکستان میں کارروائی کی انہیں مار گرایا، اگر باقی طیارے بھی کارروائی کا حصہ بنتے تو انہیں بھی مار گراتے اور تعداد پندرہ تک ہوجاتی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ کردیا ہے،
یادرہے کہ بھارتی فوج کے بزدلانہ حملے میں دو مساجد شہید ہوئیں جبکہ ایک بچی سمیت 26 پاکستانی شہید اور 46 زخمی ہوئے۔
پاک فوج نے بھارتی کارروائیوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی فوج کے 3 رافیل، ایک سکوئی، ایک مگ 29 اور ایک ڈرون تباہ کر دیا جبکہ بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر بھی تباہ کردیا۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی اے نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پر متعدد یوٹیوب چینلز اور سائٹس بلاک کردیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کہ بھارت کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔