پولیس کی عمران خان کا پولی گرافک و فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان—فائل فوٹو
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں 9 مئی کے مقدمات میں پولیس کی جانب سے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کا پولی گرافک و فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔
دورانِ سماعت پراسیکیوٹر رانا آزر دلائل کے لیے پیش ہوئے جبکہ بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر دلائل کے لیے پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی وساطت سے ملزم کو کل کےلیے دوبارہ نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے بانی پی ٹی آئی کا جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ دینے سے انکار، عمران نے کوئی اعتراف نہیں کیا، سلمان اکرم راجابانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف 12 مقدمات کے تفتیشی افسران اور ڈی ایس پی انویسٹی گیشن عدالت میں پیش ہوئے۔
اس موقع پر پولیس کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا 12 مقدمات میں فوٹو گرامیٹک اور پولی گرامیٹک ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی جائے۔
پولیس نے استدعا کی کہ اڈیالہ جیل میں ہی بانیٔ پی ٹی آئی کے پولی گرامیٹک اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ ہوں گے، ان کے آواز میچنگ کے ٹیسٹ کرانے کی بھی اجازت دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ کرانے کی گرامیٹک ٹیسٹ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔