عمران خان نے جنید اکبر کو ہدایت کی کہ سارا فوکس تحریک پر رکھیں، علیمہ خانم
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بانی تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا کہ مائنز اینڈ منزلز بل کے پی اسمبلی میں پیش نہیں ہو گا، انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور ان کے پاس ملاقات کے لیے نہیں آتے ، جبکہ نواز شریف کی پوری کابینہ جیل اور لندن چلی جاتی تھی۔راولپنڈی میں علیمہ خانم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی ملاقات کروادی گئی، بہنوں نے بھائی کو بتایا کہ آپ ان سے نہ ملیں جن کے نام فہرست میں شامل نہ ہوں، بہنوں نے یہ بھی بتایا کہ آپ سے جو لوگ ملتے ہیں وہ باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، جو لوگ پچھلی ملاقات کے لیے گئے تھے انہوں نے جھوٹ بولا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی ہے کہ کوئی پالیسی ان کے بغیر منظور نہیں ہو گی، کوئی ایپکس کمیٹی میں اجازت کے بغیر نہیں جائے گا، انہوں نے جنید اکبر کو ہدایت کی ہے کہ سارا فوکس تحریک پر رکھیں۔علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ لوگ اس وقت بھرپور تحریک چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کریں، انہوں نے الیکشن ٹریبونلز میں جانے کی ہدایت بھی کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، نہ کسی سے کوئی بات ہو رہی ہے ، بانیٔ پی ٹی آئی کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے ، ان کی صحت بھی ٹھیک ہے ۔علیمہ خانم نے بتایا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے خود سے متعلق بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت بھارت کے ساتھ تناؤ پر ڈرامے کر رہی ہے ، عمران خان نے بتایا ہے انہوں نے فیصل چوہدری سے پوچھا کہ تم کیسے اندر آ جاتے ہو؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔