ٹنڈو جام میں برائیلر مرغی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام مہنگے داموں خرید پرمجبور
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250928-2-15
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)ٹنڈوجام شہر میں برائیلر مرغی کی قیمتوں میں کمی کے باوجود برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی شہریوں کو ریلیف فراہم نہ ہو سکا منافع خوروں کے خلاف کاروائی کی جائے عوام کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوتا جارہا ہے اورپرائیز کنٹرول اتھارٹی بالکل غیر فعال ہو چکی ہے اورشہریوں منافع خور پر چھوڑ دیا گیا ہے اس وقت منافع خور معافیہ برائیلر مرغی کے گوشت کے دام من مانے وصول کررہے ہیں سندھ پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے زندہ برائیلر مرغی کا ریٹ 286 روپے فی کلو کمی تک آنے کے باوجود شہر بھر میں برائیلر مرغی کا گوشت 550 سے لے کر 600 روپے فی کلو تک میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ مرغی فروشوں کو گوشت 438روپے فی کلو مل رہا ہے جو فی کلو پر 162 سے 112 روپے فی کلو پر ناجائز منافع وصول کیا جارہا ہے جبکہ کسی دوکان پر کوئی ریٹ لسٹ نظر نہیں آتی جو ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اسسٹنٹ کمشنر تعلقہ حیدرآباد دیہی نے شہریوں کو منافع خور معافیہ کے رحم کرم پر چھوڑ دیا ہے اور منافع خور معافیہ کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی اس مہنگائی کے دور میں پہلے ہی غریب مزدور دیہاڑی دار طبقہ کو پیٹ پانے کے لیے پریشانیوں میں سامنا ہے جو کہ منافہ خور معافیہ نے مزید پریشانیوں میں مبتلا دیا ہے اور ٹنڈوجام شہر میں کسی بھی چیز کی قیمتوں میں کمی ہو جائے تو اوسے کم نہیں کیا جاتا جبکہ کے اضافہ ہونے فوراًر ریٹ بڑھا دیئے جاتے ہیں انھوں نے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد، کمشنر حیدرآباد سے مطالبہ کیا کہ ٹنڈوجام شہر میں برائیلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور دوکانوں پر ریٹ لسٹ آویزاں کروا کر منافہ خور معافیہ کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے اسی طرح رمضان المبارک میں بڑے اور چھوٹے کے گوشت میں جو اضافہ ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں کمی میں برائیلر مرغی خور معافیہ منافع خور کے گوشت ہے اور فی کلو
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز