جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران وکلائے صفائی اور پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی  ہوئی۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی  میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس  کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے ٹرائل روکنے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت وکیل فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی گزشتہ 2 سماعتوں میں نہ کسی گواہ کو دیکھ سکے اور نہ اپنے وکیل کو سن سکے۔ ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کی اجازت سے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں  ملاقات ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ عدالت میں کیا ہورہا ہے؟۔

فیصل ملک نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل کی منتقلی سے متعلق نوٹیفکیشن پر ہائی کورٹ کے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے۔ ہم بائیکاٹ کی بات نہیں کررہے، ہمارا مطالبہ ہے ملزم کہاں ہے؟۔ ہم نے ٹرائل روکنے کی درخواست بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر دائر کی ہے۔ درخواست پر بانی پی ٹی آئی کا سینئر پینل دلائل دے گا۔

وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ٹرائل میں لے آئیں ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ بانی نے کہا ہے کہ ہر سماعت سے قبل ان کے وکلا ان سے مشاورت کریں۔ ملزم کا کہنا ہے اس کا حق ہے  کہ وہ گواہ کو سن سکے۔

عمران خان کے وکیل ملک وحید انجم  نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا لیڈ کونسل میں ہوں۔ سلمان اکرم راجا کی ہدایت ہے گواہوں پر جرح میں کروں گا۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم اب بھی وکلائے صفائی کی درخواست پر دلائل کے لیے تیار ہیں۔ ملزم نے 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی کہ ان کے مقدمات میں حاضری وڈیو لنک پر کی جائے۔ ملزم لاہور کے مقدمات میں وڈیو لنک حاضری کے خلاف ہائی کورٹ گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بھی وڈیو لنک ٹرائل کی اجازت دے چکی ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 2023ء  میں قانون شہادت میں ترمیم کے بعد وڈیو لنک کی وضاحت کردی گئی ہے۔  وڈیو لنک کے لیے تمام ایپلیکیشنز کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ 5 قوانین ملزم کی وڈیو لنک حاضری کی اجازت دیتے ہیں۔ اے ٹی اے کی دفعہ 21 بھی وڈیو لنک حاضری کی اجازت دیتا ہے۔ ملزم اگر وڈیو لنک پر بار بار توہین عدالت کرے تو اس کی آواز سنانا ضروری نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کا 342 کے بیان کے وقت عدالت حاضری ضروری ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کا حکم ہے کہ عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کی صورت میں وکلائے صفائی وکالت نامے سے دست بردار ہوں۔ بائیکاٹ کرنا کورٹ کو ہائی جیک کرنے کے مترادف ہے۔ بار بار بائیکاٹ پر وکلائے صفائی کے خلاف پنجاب بار کونسل کو ریفرنس بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

دورانِ سماعت فریقین کے دلائل کے دوران عدالت میں گرما گرمی کی صورت حال پیدا ہوئی اور وکلائے صفائی و پراسیکیوشن ٹیم کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

وکلائے صفائی نے کہا کہ ہم اس طرح ٹرائل نہیں چلنے دیں گے، جس پر پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے کہا کہ کیس کا ٹرائل کسی صورت نہیں روکا جاسکتا۔ وکلائے صفائی نے 2 ہفتوں سے عدالت میں ڈراما لگایا ہوا ہے۔ وکلائے صفائی دلائل کے بجائے سیاسی تقریریں کرتے ہیں۔ ملزم اسلام آباد ہائیکورٹ، سپریم کورٹ، دیگر ہائی کورٹس میں الگ الگ بیانات دیتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی کہا ہے کہ عدالت کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔

بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب تک ٹرائل منتقلی سے متعلق پنجاب حکومت کا نوٹیفکیشن معطل نہیں ہوگا، عدالتی کارروائی نہیں رک سکتی۔ نوٹیفکیشن جاری کرنا حکومت کا کام ہے۔ آپ کی 2 درخواستوں پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، حیرانی ہے آپ پڑھتے ہی نہیں۔

عمران خان کے وکیل کی میڈیا سے گفتگو

بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ گواہان کو بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں پیش کیا جائے ۔ عدالت میں واٹس ایپ ٹرائل شو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو بانی پی ٹی آئی کے حقوق کے خلاف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو ٹرائل کے خلاف ہم نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کی موجودگی میں ٹرائل کیا جائے ۔ جن گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا ان کو بانی پی ٹی آئی نے نہیں دیکھا ۔ ہمیں ہائی کورٹ سے انصاف کی امید ہے کہ ہمیں فیئر ٹرائل ملے گا ۔ ویڈیو ٹرائل کا ڈراما رچایا جا رہا ہے اس کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ۔

فیصل ملک کا کہنا تھا کہ ویڈیو ٹرائل میں ہمیں آواز نہیں آرہی تھی اور نہ بانی پی ٹی آئی کو پیش کیا گیا۔ اگر بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آ سکتے تو یہ ٹرائل جیل میں ہونا چاہیے ۔ بانی پی ٹی آئی کی غیر موجودگی میں جو ٹرائل کیا گیا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی وکلائے صفائی موجودگی میں ہائی کورٹ عدالت میں نے کہا کہ ٹرائل کی فیصل ملک کی اجازت وڈیو لنک کہ عدالت کے خلاف

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی