ایشیا کپ: بھارت کیخلاف شناکا کو رن آؤٹ ہونے کے باوجود آؤٹ کیوں نہیں دیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سری لنکن بلے باز ڈسن شناکا کو بھارت کے خلاف میچ میں رن آؤٹ ہونے کے باوجود آؤٹ نہیں دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے آخری میچ میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان فیصلہ سپر اوور میں ہوا۔
سری لنکا نے سپر اوور میں پہلے بیٹنگ کی۔ کوشل پریرا صفر پر آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے تھے۔
اس کے بعد ڈسن شناکا نے ارشدیپ کی گیند کھیلنے کی کوشش کی تاہم وہ مس کرگئے اور گیند سیدھی کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی، اس دوران وہ رن لینے کی کوشش میں آگے بڑھے تو کیپر نے رن آؤٹ کردیا۔
Here is the full video Arshdeep Singh bowling in the super over.
.............
And in this you can see Sanju Samson's throw.
????????????????????????#INDvsSL pic.twitter.com/CY5huCsVoo — R (@RangeelaBab) September 26, 2025
تاہم اسی دوران بولر ارشدیپ نے کیچ کی اپیل بھی کی اور امپائر نے شناکا کو کیچ آؤٹ قرار دے دیا جس پر شناکا نے ری ویو لیا جس میں پتا چلا کہ گیند ان کے بلے سے نہیں چھوئی تھی اور وہ ناٹ آؤٹ قرار پائے۔
آن فیلڈ امپائر نے پہلے فیصلے میں کیچ کی اپیل پر ہی آؤٹ دے دیا تھا اس وجہ سے شناکا رن آؤٹ قرار پانے سے بچ گئے۔
Once bowler appeal for Caught behind and umpire give out, ball become dead after that.
Dasun Shanaka was run out but at the same time ball was declared dead and that rule saved him. pic.twitter.com/1Zbfu7NMAL
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔