پشاور ، حقوقِ طلبہ تحریک کا آغاز،حکومت کو 10اکتوبر کی ڈیڈلائن
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-5-8
پشاور(آئی این پی )ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پشاور حسن امین نے تعلیم بچاؤ مہم کے تحت پشاور شہر میں ’’حقوقِ طلبہ تحریک‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کو طلبہ کے مسائل حل کرنے کے لیے 10 اکتوبر تک کی ڈیڈلائن دے دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس ڈیڈلائن تک اقدامات نہ کیے تو اگلے مرحلے میں وزیرِاعلیٰ ہاؤس کے سامنے لامحدود دھرنا دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر بزمِ شاہین پشاور سدیس خان، ناظمین علاقہ جات قاسم ہمدرد، نصیراللہ، کاشف جمیل، محمد بلال، خبیب اور میڈیا سیل کے انچارج محمد فرجاد شاہ بھی موجود تھے۔ حسن امین نے کہا کہ حکومت کے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کی طلبہ برادری شدید مشکلات سے دوچار ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ تعلیم حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی، طلبہ مزید تعلیمی اخراجات اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تعلیمی فیسوں میں آئے روز ہوش ربا اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو تعلیم ترک کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ صوبائی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص فنڈ ناکافی ہے، لہٰذا اسے کم از کم 20 فیصد تک بڑھایا جائے انہوں نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے گزشتہ سال طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال وعدہ پورا نہیں ہوا۔ حکومت فوری طور پر طلبہ یونین کے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور کی نجی جامعات نے اپنی فیسوں میں 50 فیصد اضافہ کیا ہے جو طلبہ دشمن اقدام ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ان اداروں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔ سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار ہیں، حکومت فوری طور پر گرانٹ جاری کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نرسنگ طلبہ کے ساتھ پیڈ انٹرن شپ کا جو وعدہ کیا گیا تھا اسے پورا کیا جائے اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ کو بھی انٹرن شپ فراہم کی جائے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اندرونی ہاسٹلز قائم کیے جائیں اور جنسی ہراسانی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے تعلیمی اداروں میں “میوزیکل کنسرٹس” کے نام پر ہماری ثقافتی اقدار پر حملے بند کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ، طلبہ کے مسائل کے حل کیلیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، ایچ ای ڈی اور تمام تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتیں اور مذاکرات جاری رکھے گی۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پشاور حسن امین پریس کانفرنس کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔