واشنگٹن:

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے معروف امریکی ٹی وی چینلز فوکس نیوز اور پی بی ایس کو دیے گئے انٹرویوز میں پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی بزدلانہ اور بلا جواز جارحیت کے خلاف پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور کسی بھی جوابی کارروائی کا حق اپنی مرضی اور وقت پر محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستانی سفیر نے بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد ثبوت کے بغیر کی جانے والی جارحیت کو لاقانونیت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل عالمی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے پاکستان کے اس مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے کہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن پسند قوم ہیں، لیکن ہم وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارت کا رافیل طیارہ مار گرایا ہے؛ امریکی میڈیا کی تصدیق

انہوں نے عالمی برادری بالخصوص امریکا پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے امریکا اور صدر ٹرمپ سے توقع ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل میں مثبت پیش رفت کو ممکن بنائیں گے۔

پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کی مجموعی 1.

6 ارب آبادی مسئلہ کشمیر سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اور اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان