پاکستانی بندرگاہوں پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے سمندری حدودمیں ماہی گیری پرپابندی عائد کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تینوں بندرگاہوں پرہائی الرٹ جاری کر دیا گیا، ذرائع نے بتایا کہ بندرگاہوں پرسیکیورٹی بڑھادی گئی اور غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے چھوٹی کشتیوں کے سمندر میں جانے پر پابندی لگادی ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستانی سمندری حدود میں ماہی گیری پر بھی پابندی عائد کرتے ہوئے ماہی گیری کیلئے سمندر میں موجود فشنگ ٹرالرز اور کشتیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ہائی الرٹ تک سمندر میں کوئی غیر ضروری بوٹس اور ماہی گیری کشتیاں فشنگ بوتس پر پابندی ہوگی۔

دوسری جانب کراچی پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پرشپنگ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے ، کراچی پورٹ سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8 جہاز کارگو لے کر روانہ ہو گے ہیںایک کارگو شپ آج رات روانہ ہوگا، کراچی پورٹ پر آئندہ 24 گھنٹے میں 10 کارگو، کیمیکل اور کنٹینتز شپ لنگر انداز ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بندرگاہوں پر پابندی عائد کراچی پورٹ ماہی گیری ہائی الرٹ پر پابندی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک