بھارتی حلقوں میں ماہرہ اور فواد کے بیانات پر غصے کی لہر دوڑگئی، پابندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف ایک بار پھر آواز بلند ہونے لگی ہے۔
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق آل انڈین سائن ورکرز ایسوسی ایشن (AISWA) نے معروف پاکستانی اداکاروں ماہرہ خان اور فواد خان کے مبینہ ’بھارت مخالف‘ بیانات پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دونوں فنکاروں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ماہرہ خان نے بھارتی فوجی کارروائی کو ”بزدلانہ اقدام“ قرار دیا جبکہ فواد خان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کرنے کے بجائے متنازع بیانیہ اختیار کیا جو مبینہ طور پر بھارت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتا ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا”یہ بیانات نہ صرف قوم کی تذلیل ہیں بلکہ ان بہادر سپاہیوں کی توہین بھی، جنہوں نے ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا“۔
مزید برآں ایسوسی ایشن نے اپنے دیرینہ مو¿قف کو دہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں، پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں پر مکمل اور غیر مشروط پابندی عائد کی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھارتی فنکار نہ تو پاکستانی فنکار کے ساتھ کام کرے گا اور نہ ہی کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ان کے ساتھ موجود ہوگا۔
یہ سخت موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔اس واقعے کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو ”آپریشن سندور“ کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ایسوسی ایشن نے بھارتی میوزک لیبلز اور ان فنکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو تاحال پاکستانی ٹیلنٹ کے ساتھ عالمی سطح پر اشتراک کر رہے ہیں۔
خاص طور پر فلم ”عبیر گلال“ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں فواد خان مرکزی کردار میں ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس فلم کی ریلیز 2019 کے پلوامہ حملے میں شہید بھارتی اہلکاروں کی قربانیوں کی نفی ہے۔
ایسوسی ایشن نے بھارتی فلم انڈسٹری کے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کی ہے کہ فنکارانہ تعاون سے پہلے قومی سلامتی اور حب الوطنی کو اولین ترجیح دی جائے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے مطالبات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی 2016 اور 2019 میں سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستانی فنکاروں پر اسی نوعیت کی پابندیوں کی درخواستیں کی جا چکی ہیں۔
’’لیسکو وار روم‘‘ فعال ہوگیا،مانیٹرنگ شروع ، عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلیے 24گھنٹے موجود رہے گا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :